’’جگن کاظم کی شہربانو کے ہاتھ چومنے کی تصویر وائرل‘‘

معروف اداکارہ، مارننگ شو میزبان جگن کاظم نے لاہور کے معروف بازار اچھرہ سے خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچانے والی اے ایس پی شہربانو کے ہاتھ چومنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ لاہور میں 26 فروری کو عربی حروف کی کیلیگرافی کے لباس پہننے پر ایک خاتون کو مبینہ توہین مذہب کے الزام میں ہجوم نے مارنے کی کوشش کی تھی، جنہیں پولیس نے بروقت پہنچ کر بچایا تھا، پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کرنے گئی تھی، خاتون نے ایک لباس پہنا ہوا تھا جس میں کچھ عربی حروف تہجی لکھے ہوئے تھے جس پر لوگوں نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور خاتون سے فوری طور پر لباس کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھی ہیں۔اس دوران اچھرہ بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھا ہو گئی اور مشتعل ہجوم نے خاتون کو ہراساں کرنا شروع کر دیا اور انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بچایا۔ خاتون کو بچانے والی خاتون پولیس افسر اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) شہربانو کی بھی تعریفیں کی گئی تھیں اور اب اداکارہ و ٹی وی میزبان جگن کاظم کی جانب سے اس افسر کے ہاتھ چومنے کی تصاویر وائرل ہوگئی۔ جگن کاظم نے انسٹا گرام پر اے ایس پی شہربانو نقوی سے ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں اور بتایا کہ انہوں نے پولیس افسر کا یوٹیوب پر انٹرویو کیا۔ انہوں نے اے ایس پی شہربانو کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ کچھوائی گئی تصاویر بھی شیئر کیں، جس میں سے ایک تصویر میں انہیں خاتون پولیس افسر کا ہاتھ چومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اداکارہ و ٹی وی میزبان کی جانب سے اے ایس پی شہربانو کا ہاتھ چومنے کی تصویر وائرل ہونے پر صارفین نے کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ اب ڈراما بہت ہوگیا۔زیادہ تر صارفین نے اداکارہ کی جانب سے اے ایس پی کا ہاتھ چومنے کی تصویر کے عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ٹھیک ہے، انہوں نے اچھا کام کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاتون افسر کو اب سر پر بٹھا لیا جائے۔کچھ افراد نے کمنٹس کیے کہ یہ سب کچھ بہت زہادہ ہو رہا ہے، بعض صارفین نے نشاندہی کی کہ خاتون افسر خواتین کو بھی سیاسی بنیادوں پر

معروف اداکارہ شبنم پاکستان آنے پر آبدیدہ کیوں ہوگئیں؟

گرفتار کرتی رہی ہیں۔

Back to top button