100 بچوں کے قاتل جاوید پر بنی فلم ریلیز کرنے کا اعلان

پاکستان میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور سینماؤں میں فلموں کی نمائش پر پابندی کے باوجود دہائیوں بعد ملک میں بننے والی ہارر تھرلر فلم ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر‘ کو جنوری میں ہی ریلیز کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ فلم کا مرکزی کردار لاہور میں سو بچوں کو قتل کرنے والا سیریل کلر جاوید اقبال ہے جس نے سزائے موت سنائے جانے کے بعد جیل میں خود کشی کرلی تھی۔ فلم میں جاوید اقبال کا کردار معروف اداکار یاسر حسین ادا کر رہے ہیں جبکہ اداکارہ عائشہ عمر نے ایک خاتون پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہے۔

ہارر تھرلر فلم ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ دسمبر 2021 کے آغاز میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ ماہ ہولی وڈ فلموں کی سینماؤں میں نمائش کی وجہ اسے ریلیز نہیں کیا گیا تھا مگر اب فلم کے اداکاروں نے اسے ریلیز کرنے کا اعلان

کر دیا۔ فلم کے مرکزی کردار یاسر حسین نے انسٹاگرام پوسٹ میں تصدیق کی کہ ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو رواں ماہ 28 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اداکار نے شائقین سے اپیل کی کہ وہ سینماؤں میں تنہا آنے کے بجائے اپنے اہل خانہ کو بھی فلم دکھانے کے لیے ساتھ لے کر آئیں۔ یاسر حسین اور فلم کی ٹیم نے ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو ایک ایسے وقت میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ پاکستان کو کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کا سامنا ہے۔
کرونا کے بڑھتے کیسز کے باعث حکومت نے حال ہی میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

اعلان کے مطابق ویکسینیشن کروانے والے 50 فیصد افراد کو سینماؤں میں جانے کی اجازت ہوگی یعنی سینما مالکان 100 افراد کی گنجائش پر صرف 50 افراد کو ٹکٹ فراہم کریں گے۔حکومتی پابندیوں اور ملک میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے باوجود ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو ریلیز کرنے کا اعلان کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ٹیم دوبارہ فلم کی نمائش ملتوی کر دے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

مہوش حیات کس ہالی ووڈ اداکار سے ہیں شادی کو تیار؟

فلم کا ٹریلر 8 دسمبر 2021 کو جاری کیا گیا تھا، جس میں مرکزی کردار ’جاوید اقبال‘ یعنی یاسر حسین کو جہاں اعتراف جرم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، وہیں ٹریلر میں پس پردہ اس کی جانب سے بھیانک حقائق سامنے لانے اور انتہائی سخت سوالات اٹھائے جانے کی آواز بھی سنائی دی تھیں۔ فلم کی کہانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بدنام سیریل کلر ’جاوید اقبال مغل‘ کے جرائم اور ان کے قانونی ٹرائل کے گرد گھومتی ہے۔

یاد رہے کہ جاوید اقبال مغل‘ 100 بچوں کے قتل اور ان کے ’ریپ‘کا مجرم تھا۔ 1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے زیادہ تر بچوں بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے بھی کیے۔ جاوید اقبال مغل نے 2001 اکتوبر میں لاہور کی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔

Back to top button