جناح کا راز!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستان کی تاریخ میں بعض کردار ایسے ہیں جنہوں نے اس ملک کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دیں، مگر ان کے نام آج کے پاکستان میں کہیں پسِ منظر میں چلے گئے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بحیثیت ایوارڈ کمیٹی چیئرمین کے اب ایسے ہی تین کرداروں کو دوبارہ قومی یادداشت کا حصہ بنانے کا اعلان کیاہے۔ ان میں قائداعظم محمد علی جناح کے دو پارسی معالجین، ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈیبو، اور یورپ میں پیدا ہونے والے ممتاز مسلم دانشور محمد اسد شامل ہیں۔ ایوارڈ کمیٹی نے ان شخصیات کیلئے اعلیٰ سول اعزازات کی منظوری دی۔ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو کو بعد از وفات نشانِ قائداعظم جبکہ محمد اسد کو بعد از وفات نشانِ امتیاز دیا گیا ہے۔ ان اعزازات کے پیچھے چھپی کہانیاں انعامات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
1946 ءمیں بمبئی میں قائداعظم کے طبی معائنے اور ایکسرے کے بعد ان کے معالج اور قریبی دوست ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل نے انہیں بتایا کہ وہ تپِ دق میں مبتلا ہیں اور ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر پٹیل نے قائداعظم کو متنبہ کیا کہ اگر انہوں نے کام کم نہ کیا تو ان کے پاس شاید زندگی کے صرف ایک یا دو سال باقی ہوں۔ قائداعظم نے اپنی بیماری کو مکمل راز رکھنے پر اصرار کیا۔ ڈاکٹر پٹیل نےاپنے مریض کی خواہش کا احترام کیا، جبکہ ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر جل ڈیبو نے بھی تشخیص اور ایکسرے کی معلومات کسی پر ظاہر نہیں کیں۔ یہ دونوں ڈاکٹر بمبئی کی پارسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ یہاں سے ایک ایسا تاریخی راز شروع ہوتا ہے جسے ’’بیسویں صدی کے انتہائی اہم رازوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس راز کی اہمیت اسلئے غیر معمولی تھی کہ 1946ءمیں برصغیر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا تھا اور قائداعظم پاکستان کے مطالبے کی قیادت کر رہے تھے۔ اگر برطانوی حکام اور ہندو سیاسی رہنماؤں کو معلوم ہوجاتا کہ جناح ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کی زندگی محدود ہے تو ان کے سیاسی فیصلے مختلف ہوتے۔
قائد کے علاج کی فائل بغیر نشان والے ایک لفافے میں محفوظ تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب قائداعظم کی بیماری کی تفصیلات لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے رکھی گئیں تو وہ حیران رہ گئے۔ ماؤنٹ بیٹن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اُس نے کہا کہ ’’ اگرمجھے اُس وقت قائداعظم کی بیماری کا علم ہوجاتا تو میںآزادی کو کئی ماہ تک کیلئےمؤخر کر دیتا ‘‘اور ’’پاکستان کبھی وجود میں نہ آتا‘‘۔ یہ جملہ بعد میں ان سے منسوب ایک تاریخی روایت کے طور پر نقل کیا جاتا رہا، جو اس بات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے کہ جناح کی صحت سیاسی فیصلوں پر کس قدر اثرانداز ہو سکتی تھی۔ اس سے یہ حقیقت ضرور واضح ہوتی ہے کہ قائداعظم کی بیماری محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس سیاسی راز تھا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو کی خاموشی معمولی طبی رازداری نہیں رہتی۔ احسن اقبال نے ٹھیک کہا کہ دونوں ڈاکٹروں نے ’’ایک انتہائی اہم تاریخی لمحے میں مکمل پیشہ ورانہ رازداری برقرار رکھ کر پاکستان کیلئے ایک خاموش مگر غیر معمولی خدمت انجام دی‘‘ ۔ انکا اعزاز اسلئے اہم ہے کہ انہوں نے پاکستان کیلئے کوئی سیاسی تقریر نہیں کی، کوئی قرارداد پیش نہیں کی، کوئی فوجی معرکہ نہیں لڑا۔ انہوں نے اپنے ایک مریض کی امانت کی حفاظت کی جو پاکستان کے قیام کا سب سے اہم ذریعہ بنا۔
دوسری شخصیت محمد اسد ہیں، جن کی خدمات کا دائرہ بالکل مختلف مگر اتنا ہی گہرا ہے۔ یورپ میں لیوپولڈ وائس کے نام سے پیدا ہونے والے اس شخص نے اسلام قبول کیا، محمد اسد بنے۔ قیامِ پاکستان کے بعد محمد اسد نے پاکستان کو اپنا وطن بنایا اور نئی ریاست کے فکری تشخص کی تشکیل میں حصہ لیا۔ وہ ان ابتدائی مفکرین میں شامل تھے جنہوں نے یہ بنیادی سوال اٹھایا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی ریاست ہے یا ایک نظریاتی و اخلاقی ریاست بھی؟ یہیں سے ان کی سب سے اہم فکری کاوش سامنے آتی ہے۔محمد اسد کے نزدیک اسلام صرف عبادات یا انفرادی اخلاقیات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع نظام ہے جو ریاست، قانون، عدل، مشاورت اور انسانی وقار کے اصول فراہم کرتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ جدید مسلم ریاست کو ان اصولوں کی روشنی میں اپنے آئینی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو تشکیل دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کے ابتدائی آئینی مباحث میں اس سوال کے ساتھ شریک رہے کہ اسلامی اصولوں کو جدید ریاستی نظام میں کس طرح عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ فکر انہیں محض مترجمِ قرآن یا سفارت کار نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک ریاستی مفکر کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ اُنہیں سرکاری طور پر باقاعدہ ذمہ داری دی گئی کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کا فارمولہ تیار کریں جو اُنہوں نے کیا لیکن اُس پر کبھی عمل نہ ہوا اور آج تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اسد ابتدائی پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں میں شامل تھے اور بعد میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ آج کے پاکستان کیلئے ان ہیروز کو قومی ایوارڈ دینا ان کی پاکستان کیلئے خدمات کو یاد دلانے کے سلسلے میں بہت احسن اقدام ہے جس پر احسن اقبال اور ایوارڈ کمیٹی مبارک کے مستحق ہیں۔
