بنگلہ دیش آرمی چیف کے بدلتے خیالات

 

 

 

تحریر: محمد بلال غوری

بشکریہ: روزنامہ جنگ

 

بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان برسراقتدار آنے کے بعد نریندرمودی کی دعوت پر پہلی بار بھارت جارہے ہیں جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم ترین پیشرفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔دوسری طرف بی این پی کی حکومت مزید مستحکم ہونے جا رہی ہے کیونکہ 20؍اگست 2026ء کو صدارتی الیکشن ہورہے ہیں ۔شیخ حسینہ کے دور کی آخری نشانی، صدر مملکت محمد شہاب الدین کے مستعفی ہوجانے کے بعدنقش کہن مٹنے جارہا ہے۔ بظاہر تو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرزا فخرالاسلام عالمگیر اور 11جماعتی اتحاد کے امیدوار کرنل (ر)علی احمد مدمقابل ہیں مگر چونکہ 349رُکنی ایوان میں 211نشستوں کے ساتھ فیصلہ کن برتری حاصل ہے اس لئے مرزا فخرالاسلام عالمگیر کی جیت یقینی ہے۔مگر بنگلہ دیش میں مرکزنگاہ بری فوج کے سپہ سالار جنرل وقار الزماں ہیں جن کی بدلتی ہوئی سوچ کے باعث چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔گزشتہ برس اگست میں جب جولائی انقلاب کو ایک سال مکمل ہوچکا تھا تو آرمی چیف جنرل وقارالزماں نے ہندوؤں کے تہوار ’’جنم اشٹمی‘‘کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی سیکولر شناخت پر اصرار کیا ۔انہوں نے لارڈ کرشنا کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے پر امن بقائے باہمی کی اہمیت اُجاگر کی اور کہا کہ یہ ملک تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا ہے اور فوج سب کے ساتھ کھڑی ہوگی۔مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے جنرل وقار الزماں باریش ہوگئے اور اسلامی تعلیمات کا پرچار کرنے لگے۔گزشتہ ماہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل وقار الزماں نے فرمایا ’’بدعات کا خاتمہ کریں، ہمارا ملک بدعات سے بھر چکا ہے۔دعا میں بدعت، نماز میں بدعت ہمیں ان تمام چیزوں سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ہم ایک ایسے اسلامی معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں جو صحیح عقائد، مضبوط اخلاقی بنیادوں اور اسلامی اصولوں پر قائم ہو۔ہم ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیں گے جس میں اسلامی اقدار اور جدید تعلیم دونوں شامل ہوں، تاکہ معاشرہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے ‘‘۔صرف یہی نہیں بلکہ 90ویں لانگ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ اور پھر 18جون 2026ء کو بنگلہ دیش ملٹری اکیڈمی میں 2nd Bangladesh Battalionکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش بری فوج کی اس نئی بٹالین کی چار کمپنیوں کو خلفائے راشدین کی نسبت سے ابوبکر،عمر ،عثمان اور علی کمپنی کا نام دیا گیا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش آرمی کی اس نئی بٹالین کیلئے Battle Cry کے طور پر’’جوئے بنگلہ ‘‘کے بجائے ’’اللہ اکبر‘‘کا انتخاب کیا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جنرل وقار الزماں کا موازنہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل ضیاالحق سے کیا جارہا ہے جنہوں نے پاک فوج اور پھر معاشرے میں اسلامی رجحانات متعارف کروائے ۔بالخصوص بھارتی میڈیا اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہا ہے اور اس ’’اسلامک ٹچ‘‘کو پاکستان سے بڑھتی ہوئی قربتوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے ۔حالانکہ بنگلہ دیش ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور وہاں اس سے پہلے بھی اسلامی اصطلاحات استعمال ہوتی رہی ہیں مثال کے طور پر بنگلہ دیش کی بحریہ میں پی این ایس ابو بکر ،پی این ایس عمر فاروق اور پی این ایس خالد بن ولید جیسے نام بکثرت نظر آتے ہیں۔بھارت جو سیکولرازم کا دعویدار ہے وہاں بھی فوج میں مذہبی نوعیت کے نعرے اور اصطلاحات عام ہیں ۔مثال کے طور راجپوت رجمنٹ کا جنگی نعرہ ہے ’’بول بجرنگ بلی کی جے‘‘۔اسی طرح راجپوت رائفلز کے ہاں ’’راجہ رام چند رکی جے‘‘کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔اسی طرح سکھ رجمنٹ کے لئے ’’جو بولے سو نہال ،ست سری اکال ‘‘کا Battle Cryمستعمل ہے۔گڑھوال رائفلز کو ’’بدری وشال لال کی جے‘‘کا نعرہ دیا گیا ہے۔KUMAON REGIMENT کا نعرہ ہے’’کالی ماتا کی جے‘‘۔بہار رجمنٹ ’’جے بجرنگ بلی ‘‘کا نعرہ لگاتی ہے۔جموں اینڈ کشمیر رائفلز کے جوان لڑائی کے دوران نعرہ لگاتے ہیں ’’درگاماتا کی جے‘‘۔بھارتی فوج کے لئے مجموعی طور پر تین نعرے مخصوص ہیں،جے ہند،بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم ۔یہ سب تفصیل بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر بنگلہ دیش آرمی کی ایک بٹالین میں ’’اللہ اکبر‘‘کا نعرہ اپنا لیا گیا ہے تو اس میں تعجب یا تنقید کا کیا جواز ہے؟ہاں البتہ اصل سوال یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے سپہ سالار جنرل وقار الزماں کا مستقبل کیا ہوگا؟انہیں جون 2024ء میں بری فوج کا سربراہ تعینات کیا گیا تھا اور یہ تعیناتی تین سال کیلئے ہوتی ہے گویا جون 2027ء میں ان کی ریٹائرمنٹ ہے۔بنگلہ دیش میں بھی پاکستان کی طرح کئی فوجی حکمران آئے مگر سویلین حکومت کے دور میں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔شیخ حسینہ واجد نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے اہم ترین عہدوں پر اپنے وفادار افراد کو تعینات ضرور کیا لیکن ان کے دور میں بھی جنرل شفیع الحق سے جنرل شفیع الدین تک کسی آرمی چیف کو ایکسٹینشن نہیں دی گئی ۔لہٰذا موجودہ آرمی چیف جنرل وقار الزماں کی مدت ملازمت میں توسیع کا بھی بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا۔مذہبی خیالات کے باعث لوگ ان کا موازنہ جنرل ضیاالحق سے کررہے ہیں لیکن میری دانست میں وہ بنگلہ دیش کے ضیاالحق نہیں بلکہ جنرل اسلم بیگ مرزا ہیں۔جنہیں قیادت کا خلا پیدا ہوجانے پر عنان اقتدار پر قابض ہونے کاسنہری موقع ملا مگر انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا البتہ باقیماندہ سروس کے دوران یہ پچھتاوا ضرور رہا کہ ایسا کیوں نہ کیا ۔جب تک ان کی مدت ملازمت ختم نہیں ہوگئی ،ان اندیشوں کااظہار کیاجاتا رہا کہ وہ کسی بھی وقت منتخب حکومت کو رخصت کرکے مارشل لا لگا سکتے ہیں۔ مگرڈھاکہ کے حالات و واقعات اسلام آباد سے بہت مختلف ہیں اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ جنرل اسلم بیگ مرزا کی طرح جنرل وقار الزماں بھی اپنے ادھورے خواب ،ارمان اور حسرتیں دل میں لئے اگلے برس ریٹائر ہوجائیں گے اور وہاں جمہوریت کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہوں گے۔

 

 

Check Also
Close
Back to top button