جے یو آئی اور ایم کیو ایم ناراض: حکومت خطرے میں

وزیراعظم شہباز شریف کی دو اہم ترین اتحادی جماعتوں جمعیت علماء اسلام اور متحدہ قومی موومنٹ نے گیارہ ہفتے قبل وجود میں آنے والی حکومت کے ساتھ اظہارِ ناراضی کردیا ہے جس کے بعد اس کا وجود خطرے میں پڑتا نظر آتا ہے۔

حکمران اتحاد میں اس وقت دراڑیں نظر آنے لگیں جب یکے بعد دیگرے تقریباً تمام اتحادی جماعتوں نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے ’رویےکی تبدیلی‘ پر قومی اسمبلی میں اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے قبل کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔ سب سے زیادہ جارحانہ مؤقف مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام نے اختیار کیا، جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اتحاد کی اہم جماعتوں میں سے ایک اور مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کی کلیدی شراکت دار تھی۔ مولانا کے بیٹے وفاقی وزیر برائے مواصلات اسد محمود، نے رباہ کیس میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے حکومتی فیصلے پر سخت احتجاج کیا۔ یہ شکایت کرتے ہوئے کہ حکومت نے یہ فیصلہ ان کی پارٹی سے مشاورت کے بغیر کیا ہے، جے یو آئی ف کے رہنما نے اشارہ دیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے وضاحت نہ پیش کی تو ان کی جماعت حکمران اتحاد چھوڑنے کی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ وزارت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کیا بینک ان کی ہدایات کے تحت عدالت گئے تھے، ’اگر انہوں نے یہ کام خود کیا ہے، تو پھر انہیں کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ ایسے فیصلوں کے خلاف کس بنیاد پر اپیل میں جائیں۔

ناراض PTI دھڑوں کا پرویز الٰہی کو جھنڈی دکھانے کا امکان

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسد محمود نے کہا کہ کوئی بھی حکومتی وزیر تنہا فیصلے نہیں کر سکتا، آپ ہم سے مشورہ کیے بغیر اپیل دائر نہیں کر سکتے۔ وہ ایک پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر رہے تھے جب اسمبلی میں وفاقی بجٹ 23-2022 کے سلسلے میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے گرانٹس کے مطالبات کی منظوری دی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج کوئی وزارت سولو فلائٹ لینا چاہتی ہے تو اسے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے، ہم نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لیا ہے، ہم اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزاریں گے اور ہم ایسے فیصلوں سے خود کو دور کرتے ہیں۔

اس اقدام کے خلاف احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے انہوں نے حکومت سے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر اپیل واپس لی جائے اور اس حوالے سے خاص طور پر اعلان کیا جائے۔

اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ بھی پیپلزپارٹی پر سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت اظہار ناراضی کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ سندھ اور وفاق میں حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود نہ تو صوبائی حکومت نے اور نہ ہی وفاقی حکومت نے اس کے ساتھ عمران خان کو نکالنے سے پہلے کئے گئے وعدوں کا پاس کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی تو بنا دی ہے لیکن متحدہ قومی موومنٹ کے اپنے اندر اتنے اختلافات ہیں کہ اس کا حکومت کے ساتھ چلتے رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نے گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اہم فیصلوں پر اتحادی جماعتوں کو متحد رکھنے کے لیے اراکین سے ملاقات کی اور اچھے دن آنے کی امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا اور ملک کو بے مثال معاشی تنزلی اور سیاسی عدم استحکام سے نکالنے کا عزم ظاہر کیا۔

Back to top button