عمران کی محبت میں جسٹس بندیال کی آئین شکنیوں کی کہانی

جسٹس عمر عطا بندیال کی وجہ سے عدلیہ میں بہت واضح تفریق پیدا ہوچکی ہے۔ جسٹس بندیال کا دور بطور چیف جسٹس متنازع اور جانبدار ترین دور قرار دیا جا رہا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے آئین و قانون میں اپنی مرضی سے ترامیم کر کے مرضی کے بینچ بنا کر مرضی کے فیصلے کئے اور اپنوں کو ریلیف اور دوسروں کو تکلیف دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج توکہتے ہیں جسٹس قاضی فائز عیسی اعلی شخصیت کےمالک ہیں اورانکے دل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےلیے بہت عزت ہے۔ ناقدین کے مطابق جسٹس بندیال نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اتنی عزت کرتے ہیں کہ جب سے چیف جسٹس بنےکسی اہم بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شامل ہی نہیں کیا۔ہمیشہ ہم خیال ججز کو ترجیح دی۔ جسٹس بندیال کا نامزد چیف جسٹس کیلئے اب تعریفی جملے کہنا بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے دوغلے پن کی واضح مثال ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی کے الوداعی خطاب بارے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ اس ہفتے جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال رخصت ہو جائیں گے۔ جس ہنگامے پر موقوف تھی گھر کی رونق وہ بالآخر رخصت ہو رہی ہے۔ تاہم جاتے جاتے جسٹس بندیال شکوہ کناں ہیں کہ سپریم کورٹ کو سیاسی معاملات میں گھسیٹا گیا۔ اب سیاسی معاملات خود چل کر سپریم کورٹ کے دروازے پر آجائیں اور زنجیر عدل ہلائیں تو منصف اعلیٰ کیوں نہ دروازے تک آئیں اور سائل کو ’گُڈ ٹو سی یو‘ کے الفاظ کہیں اور سائل بھی ایسا کہ جس کے سوال سے قبل منصف ارادہ بھانپ لیں تو ایسا عدل دُنیا میں کہاں دستیاب ہے۔

عاصمہ شیرازی کے بقول اب جب چیف جسٹس صاحب کی رخصت میں چند روز رہ گئے ہیں تو اتنی اجازت چاہیے کہ منصف اعلیٰ آئین کی دستک پر جواب دے ہی دیں اور آئین کے تقاضوں کے عین مطابق 90 روز میں انتخاب کرا دیں۔ اس سے قبل یہ دستک اُنھوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلییوں کی تحلیل بالجبر کے بعد سی سی پی او کے مقدمے سے سفارش کردہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے سنی تھی۔عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ جناب چیف جسٹس صاحب ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے کہ اُنھوں نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کرتے کرتے اُس شق کے ساتھ وہ کیا کہ گویا آئین ہی دوبارہ لکھ ڈالا جبکہ ’ووٹ نہ شمار‘ کرنے کے حکم نامے نے ایک حکومت گرائی اور پھر اُسی شق کی حالت درست کرنے کے لیے واپس وہ کچھ کیا کہ آئین یاد کرے گا آخر پالا کس سے پڑا تھا۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق یوں تو ماضی میں آئین کے ساتھ دست درازی کی کئی آمرانہ وارداتیں ہو چکی ہیں لیکن ماضی قریب میں جو ہوا اُس کی مثال نہیں ملتی۔چیف جسٹس بندیال کے ’سُنہری‘ دور کی یادیں ہمیشہ امر رہیں گی۔ پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کو جس طرح ردی کی ٹوکری کی نذر کیا اور جس طرح از خود نوٹس کے اختیار کو ضابطے میں لانے کی پارلیمنٹ کی کوشش کو ’توہین آمیز اور قابل دست اندازی اختیار‘ گردانا اور کھل کر چیلنج کیا۔۔۔ مفادات کے ٹکراؤ کے تحفظ کی اس سے اعلیٰ مثال اور کیا ہو گی۔

عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور خاص طور ایک انصاف پر مبنی سیاسی جماعت نے عدالت کے دروازے پر جب بھی دستک دی، عدالت نے کبھی انھیں مایوس نہیں کیا۔ یہاں تک کہ عدالت عالیہ میں موجود مقدمات کے ہوتے ہوئے بھی عظمیٰ نے عدالت لگائی اور نو مئی کے واقعات کے بعد بھی چیئرمین تحریک انصاف کو مکمل انصاف فراہم کیا۔توشہ خانہ ہو یا نیب ترامیم ہوں، آڈیو لیکس ہوں یا صوبائی انتخابات کا معاملہ عدالت سیاسی معاملات سے خود کو بس بچاتی ہی رہی۔ اس حد تک آگے جانے کے باوجود ناشکری سیاسی جماعت والے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہیں اور آئندہ چند دن تک مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکنے پر ’توہین آمیز‘ تلواریں تیز کر رہے ہیں۔

عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جاتے جاتے آئینی مسائل میں الجھائے جانے کا شکوہ بھی کیا مگر کیا یہ بھی سوچا کہ آپ کو الجھانا کس قدر آسان اور سلجھانا کس قدر محال ہے۔جناب! 54 ہزار مقدمے حل نہ ہو سکتے تھے مگر اُن کے گِرد جمی گَرد تو ہٹائی جا سکتی تھی، سیاسی مقدمات سے معذرت تو کی جا سکتی تھی۔ جو سیاسی جماعت آپ کو سیاست میں اُلجھا رہی تھی اُس کو کبھی ایک بار مسترد کیا ہوتا تو عدل کی لاج رہ جاتی۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق یہ سب اپنی جگہ، اس ہفتے کچھ تیزی کچھ مندی رہے گی۔ صدر مملکت آئین کے آرٹیکل اڑتالیس کی شق پانچ پر دانت تیز کریں گے یا سپریم کورٹ 90 دنوں میں انتخاب کا آئینی تقاضا پورا کرے گی۔ اس میں پہلے آپ اور پہلے آپ رہے گا۔سوشل میڈیا گیلریز کے لیے منجن کی تیاری البتہ ہو چکی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے روایتی نورا کُشتی شروع کر دی ہے، آئین محض نعروں میں رہے گا اور آئین سے بالا معاملات طے ہوتے رہیں گے۔ آئین کی اس کھینچا تانی میں انتخابات کب ہوں گے اور کیسے ہوں گے اس کی یقین دہانی کسی کے پاس تاحال نہیں۔بندیال صاحب جا رہے ہیں اور قاضی صاحب آ رہے ہیں جبکہ آئین منتظر ہے کہ اس کے تحفظ کی دستک کون سنے گا۔

سیبوں پر یہ ننھے نشان کیوں بنے ہوتے ہیں؟

Back to top button