جسٹس فائز عیسیٰ نے جسٹس بندیال سے منہ کیوں موڑلیا؟

سپریم کورٹ میں تقسیم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی،عدالت عظمیٰ اس وقت جسٹس بندیال ہم خیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ گروپ میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں انصاف کے حصول کے ساتھ ساتھ سیاسی تناؤ کو ختم کرنے کے لیے بھی تمام نگاہیں سپریم کورٹ کی جانب ہوتی ہیں، لیکن اب عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے درمیان بھی تناؤ کی خبریں آئے روز سننے کو ملتی رہتی ہیں، ججز کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کے اعزازمیں عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں عدالت عظمیٰ کے 14ججز نے شرکت کی تھی تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس عشائیے میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
حال ہی میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کسی شخص سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، اسی دوران چیف جسٹس بندیال وہاں پہنچتے ہیں اور اس شخص سے ملتے ہیں ، عین اسی وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ منہ دوسری طرف کرلیتے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس ویڈیو پر طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں، بعض اس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے طرزعمل کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس منظر کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔صحافی مطیع اللہ جان نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جب آنے والا باہر جانے والے سے منہ موڑ لیتا ہے۔
قمر خٹک نامی صارف نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس سے پہلے مل چکے ہوں گے ورنہ وہ اتنے ظرف والے بندے ہیں ایسا نہیں کر سکتے کہ کسی سے سلام نہ کریں۔ایک صارف نے لکھا کہ یہ درست نہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس سے منہ موڑ لیا ہو، واضح نظر آ رہا ہے کہ ایک خاتون جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کسی کا تعارف کروا رہی تھیں۔محمد کامران خان نامی صارف نے احمد فراز کی شاعری کا سہارا لیتے ہوئے شاعرانہ انداز میں ویڈیو پر تبصرہ کیا، انہوں نے لکھا کہ ’تیرے پاس سے جو گزرے تو جنوں میں تھے فراز‘
ایک صارف نے دلچسپ مزاحیہ انداز میں لکھا کہ قاضی فائز عیسیٰ جسٹس عمر عطا بندیال کو ایسے ہی نظر انداز کر رہے ہیں جیسے پیسہ مجھے نظر انداز کرتا ہے۔سینئر صحافی سبوخ سید نے لکھا کہ نہ جانے ہم لوگ بھی کہانیاں گھڑنے میں کتنے ماہر ہیں۔ جسٹس عطا بندیال آئے، تھپکی دیکر ایک جج کو متوجہ کیا ، ان سے ملے ، قاضی فائز عیسی ملنے کا انتظار کر رہے ہیں ، ایک خاتون جسٹس فائز عیسی کو تھپکی دیکر ایک نوجوان سے ملنے کے لیے متوجہ کرتی ہےتو وہ اس کی طرف مڑ جاتے ہیں۔صنم جمیل نے لکھا کہ بچپن سے ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ دو بات کر رہیں ہو تو تیسرے کو بیچ میں بولنا نہیں چاہئے جب تک وہ اپنی بات ختم نہ کر دے ۔۔۔۔ قانون کو اپنی مرضی سے ری رائٹ کرتے کرتے بندیال صاحب بھول گئے کہ محفل کے بھی اپنا کچھ قانون ہوتے ہیں جن کافالو کرنا ہر مہذب شخص پر ضروری ہوتا ہے
واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ اکثر سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس تناؤ کا آغاز 2019 میں اس وقت ہوا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک صدارتی ریفرنس صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے بھیجا گیا۔ جس پر تقریباً 13 ماہ کارروائی چلتی رہی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوائے گئے اس ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پرالزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر برطانیہ میں موجود اپنی بیوی اور بچوں کے نام جائیدادوں کو چھپایا ہے۔
صدارتی ریفرنس سے متعلق فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جائیدادوں سے متعلق اکٹھی کی گئی تفصیلات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ نظرثانی درخواست میں سپریم کورٹ کے 10رکنی بینچ نے ان احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال کے چیف جسٹس بننے سے چند روز قبل سامنے آیا۔اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر جسٹس عمر عطا بندیال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یہی نہیں بلکہ چیف جسٹس کا از خود نوٹس بھی عدلیہ میں تقسیم کی وجہ بنا۔ سپریم کورٹ کے اندر ہی سے از خود نوٹس لینے کے اختیارات کو محدود کرنے کی آوازیں اٹھنے لگیں۔اس کی مثال جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس محمد امین کا وہ اکثریتی فیصلہ ہے جس میں کہا گیا کہ جب تک عدالتی ضوابط تشکیل نہیں دیے جاتے تب تک چیف جسٹس کی جانب سے لیے گئے از خوس نوٹسز سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کی
کیا جسٹس مظاہر نقوی کی چھٹی کا فیصلہ ہو چکا ہے؟
جائے۔
