جسٹس منصور نےججزکمیٹی میں واپسی کیلئے3شرائط رکھ دیں

سپریم کورٹ کےسینیئر جج جسٹس منصورعلی شاہ نےسیکرٹری سپریم کورٹ کمیٹی کوخط لکھ کرکمیٹی میں واپسی کیلئے3شرائط رکھ دیں۔

سپریم کورٹ کےجسٹس منصورعلی شاہ نےخط میں ترمیمی آرڈیننس پرتحفظات کا اظہارکیااورکہا کہ آرڈیننس اجرا کے چند ہی گھنٹوں بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی دوبارہ تشکیل کردی گئی۔ترمیمی آرڈیننس آنےکےبعدبھی سینیئرترین ججز کو کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔

خط میں کہا گہا ہےکہ کوئی وجہ بتائے بغیر جسٹس منیب اخترکوکمیٹی سےہٹادیا گیا، جسٹس منیب اخترکو کمیٹی سےہٹانے کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئی۔ اپنی مرضی کا ممبرکمیٹی میں شامل کرکےمن مرضی کی گئی جوغیرجمہوری رویہ اور ون مین شو ہے۔

خط میں ان کا کہناتھاکہ چیف جسٹس کی ذات میں انتظامی معاملات کاارتکازغیر جمہوری اورعدالتی شفافیت کےاصول کےبرعکس ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نےکمیٹی میں واپسی کی تین شرائط رکھ دیں اورخط میں کہا کہ جب تک فل کورٹ اس آرڈیننس کی آئینی حیثیت کاجائزہ نہیں لیتی کمیٹی میں نہیں بیٹھوں گایاجب تک فل کورٹ آرڈیننس کےذریعے ترامیم پر عملدرآمد کا فیصلہ نہیں کرتی کمیٹی میں نہیں بیٹھوں گایا پھرجب تک چیف جسٹس سابقہ کمیٹی بحال کرتےہوئےجسٹس منیب اخترکو شامل نہیں کرتےکمیٹی میں نہیں بیٹھوں گا۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ صدارتی آرڈیننس پرسپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ بنایا جائےیاانتظامی سائیڈ پرفل کورٹ اجلاس بلایا جائے۔

واضح رہےکہ جسٹس منصورکےترمیمی آرڈیننس پرتحفظات،ججز کمیٹی اجلاس میں بغیر شرکت کےہی چلےگئے تھے۔

ذرائع کا کہناہےکہ جسٹس منصور علی شاہ نےترمیمی آرڈیننس پرتحفظات کا اظہارکیا تھا۔وہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کےاجلاس میں شرکت کیےبغیرچلے گئے۔اجلاس میں چیف جسٹس قاضی فائزاورجسٹس امین الدین خان شریک ہوئے۔

واضح رہےکہ صدرمملکت آصف علی زرداری نےپریکٹس اینڈ پروسیجرآرڈیننس پر دستخط کئےتھے۔صدرمملکت کےدستخط کےبعد پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس جاری کردیا گیا تھا ۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کےسیکشن2 کی ذیلی شق ایک کےمطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرےگی۔کمیٹی چیف جسٹس،سینئر ترین جج اورچیف جسٹس کےنامزدجج پرمشتمل ہوگی۔آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کےسیکشن 3 میں ترمیم بھی شامل ہےجس کےمطابق سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی۔اس کےعلاوہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں سیکشن7 اےاور7بی کوبھی شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہےکہ پی ٹی آئی نےپریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی آرڈیننس سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے ۔

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں آرڈیننس کےذریعے ترمیم کےخلاف سندھ ہائی کورٹ سےرجوع کرلیا۔پی ٹی آئی کی جانب سےسندھ ہائی کورٹ میں دائردرخواست میں وفاق،سیکریٹری کابینہ اور سیکریٹری پارلیمانی امور کو فریق بنایاگیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایاگیا ہےکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نےاپنے فیصلےمیں آرڈیننس کےلیےتین شرائط طےکی تھیں۔اس وقت ملک میں کوئی آفت ہےنا کوئی ایمرجنسی،پارلیمان کی موجودگی کےباوجود آرڈیننس لانا غیرآئینی ہے۔

دائر درخواست میں کہاگیا ہےکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم سے متعلق فیصلےمیں چیف جسٹس نےکمیٹی کےقیام کی تائید کی تھی،چیف جسٹس نےلکھا کہ ماسٹرآف دی روسٹر کا کردار ختم کرناہے۔سپریم کورٹ کےفیصلے کی موجودگی میں آرڈیننس کےذریعےترمیم نہیں کی جاسکتی۔

لاہورجلسےمیں اخراجات پر پی ٹی آئی رہنماؤں میں تلخ کلامی،ہاتھاپائی

یادرہےکہ عمران خان نےپریکٹس اینڈپروسیجرکمیٹی میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف دوبارہ درخواست دائرکردی ہے

Back to top button