مخصوص نشستیں کیسےتقسیم ہوں گی،تفصیلی فیصلے میں ذکرنہیں،اعظم نذیر

وزیر قانون اعظم نذیرتارڑنےکہا ہےکہ سپریم کورٹ کاتفصیلی فیصلہ آنےکے باوجود آئینی مسئلہ یہ ہےکہ لسٹ کاملکی قانون کےمطابق فیصلہ ہوناہےاور آئین پاکستان کےقوانین کی موجودگی میں اب یہ نشستیں کس طرح سےتقسیم ہونی ہیں اس کاجواب اس تفصیلی فیصلےمیں نہیں ہے۔

 وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نےپریس کانفرنس کرتےہوئےکہا کہ یہ قانون آج بھی موجود ہےکہ اگر آپ آزادحیثیت میں منتخب ہوکرآئےہیں توالیکشن جیتنےکے بعد تین روز کےاندرآپ نےکسی سیاسی پارٹی کاحصہ بننا ہوتاہےاور یہ قانون کے تحت اب ناقابل واپسی ہے۔

اعظم نذیرتارڑنےکہاکہ آئین کا آرٹیکل51 کہتا ہےکہ نشستوں کی تقسیم قانون کے مطابق ہو گی اور صوبائی اسمبلیوں کےحوالےسے106کے قانون میں بھی یہی کہا گیا، صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے۔سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے بھی موجودہیں کہ پارلیمان کی قانون سازی کااختیار کُلی ہےاور پارلیمان کی جانب سےبنائے گئےقانون کو عدالتی فیصلوں پرفوقیت حاصل ہو گی۔

وزیرقانون نےکہا کہ نظرثانی کی اپیل غیرموثرنہیں ہوئی کیونکہ آئین کےتحت قانون حق دیتا ہے اورسیاسی جماعتوں کی نظرثانی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں۔آج کے تفصیلی فیصلے نےان نظرثانی درخواستوں کومزید تقویت دےدی ہےکیونکہ الیکشن کمیشن میں کارروائی شروع ہوئی اورجب ان کافیصلہ آیا توپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج ہوااور وہاں سے0-5 سےہائی کورٹ کےلارجر بینچ نےالیکشن کمیشن کےفیصلےکوبرقراررکھتےہوئےکہا کہ یہ آئین پاکستان اورقوانین کے طابق درست فیصلہ ہے۔

وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنےکہا کہ سپریم کورٹ نےاس پرسوموٹو نوٹس نہیں لیا اور ابھی بھی تفصیلی فیصلے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اس طرح کےفیصلے کرمنل پروسیجر کوڈ کے مطابق ہوتے ہیں جس میں یہ دیکھاجاتا ہےکہ فریقین کون ہیں۔کون ریلیف مانگنےآیا ہے۔کس نےاپنامقدمہ دائر کررکھاہےاوراستدعا کیا کی گئی ہےتوقانون کےطالبعلم کی حیثیت سےیہ میرےخیال میں ایک نیا فلسفہ ہے کس کی وجہ سے کنفیوژن ہوئی ہےجو شاید نظرثانی درخواستوں میں دور ہو۔

اعظم نذیرتارڑنےکہا کہ اب صورتحال ایسی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ پارٹی جو فریق نہیں تھی، وہ پارٹی جو بطور پارٹی نہ الیکشن کمیشن میں ریلیف مانگنے گئی، نی وہ پارٹی پشاور ہائی کورٹ میں فریق بنی۔نہ وہ پارٹی پاکستان تحریک انصاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں فریق بنی اور وہ درخواست شوزب صاحبہ کی تھی کہ میں کیونکہ سنی اتحاد کونسل کی طرف سےامیدوار نامزد ہوئی ہوں تو یہ نشستیں ہمیں گی جائیں اوراس میں آج بھی یہ واضح پوزیشن ہےکہ جو جواب دہندگان ہیں انہیں نوٹس نہیں ہوئے، آزادانہ کارروائی نہیں ہوئی۔فریق بننے کی درخواستیں نہیں آئیں۔جن اراکین قومی اسمبلی کےبارےمیں فیصلہ ہوا ان کی رائے نہیں تو یہ سارےسوالات ویسےکےویسےکھڑےہیں۔

وزیرقانون  کا کہنا تھا کہ مجھےبطوروکیل اس بات کی تکلیف ہوئی کہ آخری دو پیراگراف میں اختلافی رائےدینےوالےدومعزز جج صاحبان کےبارےمیں کافی سختی سے لکھا گیاہے۔عدالت میں سب ججزبرابرہیں، کسی کاسینئرجج ہونا فیصلوں پر حاوی نہیں ہوتا اوراختلاف ہی مباحثےاورمنطق کاحسن ہے۔مختلف آرا میں ہی کچھ نہ کچھ بہتر نکلتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑنےکہا کہ تفصیلی فیصلہ آنےکےباوجود آئینی مسئلہ یہ ہےکہ لسٹ کا ملکی قانون کے مطابق فیصلہ ہونا ہےاور104۔اےاورسیکشن66آج قانون کی کتاب کاحصہ اورموثر قوانین ہیں۔ان کی موجودگی میں اب یہ نشستیں کس طرح سےتقسیم ہونی ہیں یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب اس تفصیلی فیصلےمیں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ:63 اے نظرثانی اورآڈیو لیک کیس سماعت کیلئےمقرر

وزیرقانون نےمزیدکہاکہ کہا کہ الیکشن کمیشن میں ان اراکین نےبغیر کسی جبر اور اپنی رضامندی سےحلف نامہ دیا کہ ہم سنی اتحاد کونسل کےاراکین ہیں اوراس کے بعد پوری کارروائی کےدوران یہ بات بھی نہیں آئی کہ یہ نشستیں پی ٹی آئی کو جا سکتی ہیں، سماعت اس بات پرتھی کہ یہ نشستیں سنی اتحادی کونسل کو مل سکتی ہیں یانہیں مل سکتیں۔یہ جو تیسری صورتحال نکلی تو اس پر لوگوں نےکہا کہ یہ63۔اےکی طرح آئین کودوبارہ ازسرنولکھ دیا گیا ہے۔میرےخیال سے عدالت تشریح کرتےہوئے اس حد تک تشریح نہ کرےکہ آئین کااصل قانون وہ ہی تبدیل ہو کررہ جائے۔

Back to top button