سپریم کورٹ:63 اے نظرثانی اورآڈیو لیک کیس سماعت کیلئےمقرر

سپریم کورٹ ججز کمیٹی کے اجلاس میں63 اے نظر ثانی درخواستیں اور آڈیو لیک کیس سماعت کیلئے مقرر کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ ججز کمیٹی کےاجلاس میں63 اےنظر ثانی درخواستیں30ستمبر کو سماعت کےلیےمقررکرنےکا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع نےبتایاکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں5رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
ذرائع کےمطابق بینچ میں جسٹس منیب اختر،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل او جسٹس مظہرعالم میاں خیل شامل ہوں گے۔
ذرائع نےبتایاکہ آڈیولیک کیس کیلئےبھی5رکنی لارجر بینچ تشکیل دےدیا۔آڈیو لیک کیس کےبینچ کی سربراہی جسٹس منصورعلی شاہ کریں گے۔آڈیو لیک کیس کے بینچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل اورجسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
ذرائع نےبتایاکہ آڈیو لیک کیس آئندہ ہفتےسماعت کیلئےمقرر کیےجانےکاامکان ہے، جسٹس منیب اخترکوآڈیو لیک کیس میں انکاذکرہونےپربینچ میں شامل نہیں کیاگیا۔
یاد رہےکہ17مئی 2022 کوصدارتی ریفرنس پرفیصلہ دیتےہوئےسپریم کورٹ نے قرار دیا تھاکہ منحرف اراکین کاووٹ شمار نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کاسوال واپس پارلیمنٹ کوبھیج دیا تھا۔اس معاملےپرنظرثانی درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔
واضح رہےکہ جسٹس منصور کےترمیمی آرڈیننس پر تحفظات،ججز کمیٹی اجلاس میں بغیر شرکت چلےگئے۔
جسٹس منصور علی شاہ کےپریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی کےترمیمی آرڈیننس پرتحفظات،ججزکمیٹی اجلاس میں شرکت کیےبغیرچلےگئے۔
مخصوص نشستیں کیسےتقسیم ہوں گی،تفصیلی فیصلے میں ذکرنہیں،اعظم نذیر
ذرائع کا کہنا ہےکہ جسٹس منصور علی شاہ نےترمیمی آرڈیننس پرتحفظات کا اظہارکیا تھا۔وہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کےاجلاس میں شرکت کیےبغیرچلے گئے۔اجلاس میں چیف جسٹس قاضی فائزاورجسٹس امین الدین خان شریک ہوئے۔
