جسٹس صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

2018 میں آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کے جرم میں بطور جج فارغ کیے جانے والے جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے تین برس بعد بھی اپنی برطرف کے خلاف دائر اپیل کا فیصلہ نہ ہونے کے بعد اب سپریم جوڈیشل کونسل کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے جس نے انہیں برطرف کیا تھا لیکن اپنے فیصلے کی مصدقہ دستاویز ابھی تک مہیا نہیں کیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے اور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد انور خان کاسی کے خلاف دائر 4 ریفرنسز کی تصدیق شدہ کاپیاں اور مکمل آرڈر شیٹس فوری طور پر فراہم کریں۔ درخواست میں شوکت عزیز صدیقی نے جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار جواد پال کو یاد دہانی کروائی کہ یہ انکی تیسری درخواست ہے جب کہ اس سے پہلے 2 درخواستیں 3 نومبر 2020 اور 5 نومبر 2020 کو جمع کروائی گئی تھیں۔
شوکت عزیز صدیقی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سال اور 4 ماہ گزرنے کے بعد بھی انہیں ابھی تک کوئی جواب یا مطلوبہ مصدقہ کاپیاں نہیں ملیں۔ یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی پچھلے کئی برسوں سے انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور سپریم کورٹ میں اپنی برطرفی کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔
سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ گلزار احمد اپنے دور میں ان کی اپیل دبا کر بیٹھے رہے لیکن اب ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پچھلے دنوں شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ میں ایک نئی پٹیشن دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ان کی اپیل پر 10 فروری سے دوبارہ سماعت شروع کی جائے تاہم اس درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔
چونکہ جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر نواز شریف کے خلاف اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا اس لئے خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان کے بطور کمانڈر تبادلے کے بعد اب شاید ان کی شادی رسی یو جائے، لیکن اب بھی ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
یاد رہے کہ شوکت عزیز صدیقی اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کے فیصلے کے انتظار میں گزشتہ سال جون میں ہائی کورٹ سے بھی ریٹائر ہوگئے تھے۔ اب ایک نئی درخواست میں انہوں نے مقدمے کی آرڈر شیٹس اور دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔
ہمارے جج حکومتی اقدامات سے خوفزدہ نہیں ہوں گے
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ طرز عمل درخواست گزار کے لیے سنگین تعصب کا باعث بن رہا ہے کیونکہ مصدقہ کاپیاں جاری نہ کرنے سے درخواست گزار سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ دائر کرنے سے محروم ہو سکتا ہے۔
تازہ درخواست میں جسٹس ر شوکت عزیز صدیقی نے استدعا کی ہے کہ سیکریٹری اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ درخواست گزار 4 ریفرنسز میں مدعا علیہ جج تھے اور جوڈیشل کونسل کی 11 اکتوبر 2018 کی سفارشات کے مطابق انہیں ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ درخواست میں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ درخواست گزار نے سفارشات یا نوٹیفکیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور امکان ہے کہ اگلے ہفتے یا اس کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج نے پہلی مرتبہ سپریم جوڈیشل کے اس فیصلے کے خلاف 11 اکتوبر 2018 کو اپیل جمع کرائی تھی جس کے تحت انہیں جولائی 2018 میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں آئی ایس آئی کے سیاسی کردار بارے تقریر کرنے پر جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریاست کے انتظامی محکموں بالخصوص آئی ایس آئی کے بعض افسران بشمول سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ہائی کورٹ کے بینچز کی تشکیل میں مداخلت کا انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فیض حمید اپنی مرضی کے بیچ بنوا کر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف مرضی کے فیصلے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
شوکت عزیز صدیقی کی اپیل کی آخری سماعت پچھلے برس 7 دسمبر کو ہوئی تھی۔ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل پر الزام عائد ہونے کے بعد مزید کارروائی ملتوی کر دی تھی۔
یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو جج کے عہدے سے ہٹایا تھا، ان کے وکیل حامد خان نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ججوں پر آئی ایس آئی کے زیر اثر فیصلہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
حامد خان کے دعووں کا بینچ پر اچھا اثر نہیں ہوا اور ان الزامات پر جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ کہتے ہوئے ناراضی کا اظہار کیا کہ انہیں اس طرح کے ریمارکس سن کر بہت دکھ ہوا۔
