ہمارے جج حکومتی اقدامات سے خوفزدہ نہیں ہوں گے

محسن بیگ کے گھر پر ایف آئی اے اور پولیس کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس لانے کے اعلان کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ حکومت جو کرنا چاہتی ہے کرتی رہے لیکن ہمارے جج کو ایسے نہیں ڈرایا جا سکتا، ہماری عدلیہ کے جج ایسے اقدامات سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

18 فروری کے روز محسن بیگ کی اہلیہ کی جانب سے سے ان کے خلاف درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے ملزم پولیس حراست میں ہونے والے تشدد کا بھی سخت نوٹس لیا اور آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں نے محسن بیگ کے وکیل لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کو کہا کہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست صرف ملزم کی جانب سے دائر کی جا سکتی ہے لہٰذا اہلیہ کی دائر کردہ درخواست قابل سماعت نہیں۔ انہوں نے ملزم محسن بیگ کی جانب سے درخواست دائر کرنے کی ہدایت کرتے کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔

درخواست گزار کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’حکومت ماتحت عدلیہ کو دھمکا رہی ہے۔ جس جج نے محسن بیگ کے گھر مارا گیا چھاپہ غیر قانونی قرار دیا ان کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف فیصلہ معطل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتیات پر اترتے ہوئے وزیر اعظم خود اس معاملے میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ جو کرنا چاہتے ہیں ان کو کرنے دیں ہمارے جج کو دھمکایا نہیں جاسکتا۔

جسٹس صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

ہماری عدلیہ ایسے اقدام سے متاثر نہیں ہوتی۔‘ دوسری جانب جمعے ہی کو انسداد دہشت گردی عدالت نے محسن بیگ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع دیتے ہوئے مزید تین روز کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے محسن بیگ کو 21 فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نحسن بیگ کے وکیل کو کہا کہ ’آپ کی درخواست مقدمہ خارج کرنے سے متعلق ہے لیکن ایسی درخواست ملزم کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا، آپ اپنی درخواست ترمیم کر کے لائیں۔‘ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’محسن بیگ سے ملنے تک نہیں دیا جا رہا، تھانے میں بدترین تشدد کیا جا رہا ہے۔

ایس ایچ او کے کمرے میں درجن سے زائد لوگوں نے ان پر تشدد کیا ہے۔عدالت نے کہا کہ ’اس معاملے پر پولیس سے رپورٹ طلب کر لیتے ہیں لیکن کسی تیسرے شخص کی درخواست پر مقدمہ خارج نہیں کیا جا سکتا ہمیں معلوم بھی نہیں کہ ملزم خود مقدمہ خارج کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت نے محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 17 فروری کو وزیر اعظم آفس میں عمران خان کی ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی اور اٹارنی جنرل سے ملاقات ہوئی تھی جس میں محسن بیگ کیس پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اٹارنی جنرل آفس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے بیگ کے گھر پر چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والے جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محسن بیگ کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کو جس کیس پر گرفتار کیا گیا ہے وہ ایک ٹی وی پروگرام میں دیے گے ریمارکس سے متعلق ہے لیکن پینل میں موجود اور کسی تجزیہ کار کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ کھوسہ کا کہنا تھا کہ سارا معاملہ ریحام خان کی کتاب سے متعلق ہے لیکن چونکہ وہ وزیراعظم کی سابقہ اہلیہ ہیں لہذا انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی کتاب میں درج الزامات کے حوالے سے کوئی کارروائی کی گئی ہے۔

Back to top button