علی وزیر کی رہائی کیلئے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ ایم این اے علی وزیر کی ضمانت کے باوجود انکی عدم رہائی کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جاری ہے اور مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ علی وزیر کو ساتھ لیے بغیر نہیں جائیں گے۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے ایک ہفتے سے کراچی میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے سامنے دھرنا دیا ہوا ہے اور یہ تاحال جاری ہے۔ علی وزیر کی والدہ نے دھرنے کے شرکا سے اپنے ٹیلیفونک خطاب میں تمام پاکستانیوں اور پشتونوں سے اپیل کی ہے کہ ’اٹھو اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ اور اس دھرنے کو کامیاب بناؤ۔
یاد رہے کہ علی وزیر گذشتہ ایک برس سے کراچی کی جیل میں قید ہیں اور بھائی لوگ سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت دیے جانے کے باوجود انہیں رہا کرنے سے انکاری ہیں اور ان پر نت نئے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ علی وزیر کی والدہ خوازہ مینا نے بیٹے کی رہائی کے لیے دیے جانے والے دھرنے سے ٹیلیفونک خطاب میں کہا کہ میں دل اور شوگر کی مریضہ ہوں اس لئے کراچی نہیں پہنچ سکی لیکن میری دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علی وزیر اپنی قوم اور وطن کی خاطر جیل میں ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر، دیور اور خاندان کے دیگر افراد نے اس وطن اور قوم کی خاطر جان کی قربانی دی اور انھیں اس کا کوئی ملال نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ علی وزیر کی گرفتاری پر بھی خفا نہیں کیونکہ انکا بیٹا قوم اور ملک کی خاطر قید ہے۔ انھوں نے تمام پشتونوں سے کہا کہ وہ متحد ہو جائیں صرف علی وزیر کے لیے نہیں بلکہ قوم وطن اور ملک کی ِخاطر اکٹھے ہو جائیں۔
علی وزیر کی والدہ نے یہ بھی کہا کہ ’علی جب اس تحریک میں شامل ہو رہے تھے اور ہمارے خاندان کے تقریباً 18 افراد مختلف واقعات میں اپنی جانوں کے نذرانے دے چکے تھے تو میں نے علی سے کہا تھا کہ وہ طاقتور لوگ ہیں، تم ان سے مت الجھو۔‘ ’لیکن علی نے کہا کہ میں ان سے خوفزدہ نہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹوں گا، جس پر میں نے کہا کہ جاؤ تم پھر قوم کے لیے جاؤ اور دیکھو پیچھے مڑ کر واپس نہ آنا اور نہ ہی بزدلی کا مظاہرہ کرنا۔
برطانوی عدالت سے بریت: الطاف حسین کیلئے نئی سیاسی زندگی
دھرنے کے شرکا کے مطابق دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کی فی الحال دو بنیادی مطالبات ہیں: ایک یہ کہ علی وزیر کو فوری طور پر رہا کیا جائِے اور دوسرا یہ کہ ان کی تنظیم کے جتنے افراد گرفتار ہیں ان کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔
علی وزیر کے بیٹے عالم زیب کے مطابق ان کے بہن بھائی بھی والد کی کمی محسوس کرتے ہیں لیکن انھیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کے والد قوم اور وطن کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف کراچی کے تھانہ سہراب گوٹھ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان پر پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے جیسے الزامات عائد ہیں۔
نومبر 2021 میں سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی لیکن ان کے خلاف شاہ لطیف تھانے میں بھی ایک ایف آئی درج تھی جس پر انھیں رہائی نہیں مل سکی تھی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ شاہ لطیف تھانے میں درج ایف آئی آر کے لیے ان کی ضمانت کی درخواست چند روز پہلے مسترد ہوئی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت جہاں منظور پشتین سے جانی جاتی ہے وہاں اس تنظیم میں علی وزیر اور محسن داوڑ کا نام بھی نمایاں رہا ہے۔علی وزیر اور محسن داوڑ نے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے لیکن پی ٹی ایم پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ اس تنظیم کے اندر اس پر بحث جاری تھی لہذا محسن داوڑ نے اپنی سیاسی جماعت ’نینشل ڈیموکریٹک موومنٹ‘ بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔
