نواز شریف کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین کیوں ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کچھ ایسا معلوم ہے جو کوئی اور نہیں جانتا لہذا انہیں عمران خان کے خلاف اپنے جیت کا مکمل یقین ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں فہد حسین کہتے ہیں کہ ہر نئے دن کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت بڑھنے والا ہے۔ لندن میں بیٹھا نواز شریف پُراعتماد ہے۔ انکا کا بھائی شہباز شریف اسی اعتماد پر عمل کر رہا ہے اور ایک نیا معاہدہ فائنل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

فہد حسین کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں ریڈ زون میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ اس مرتبہ اپوزیشن اس قدر پُراعتماد کیوں ہے۔ وہ ایسا کیا جانتی ہے جو حکومت نہیں جانتی؟ اس وقت اپوزیشن کا محور قومی اسمبلی میں نمبرز گیم پوری کرنا جس کے لیے پس پردہ سرگرمیاں نہایت خفیہ طریقے سے لیکن زور وشور سے جاری ہیں۔ لہٰذا کھلاڑیوں سے کھچا کھچ بھرے میدان میں اصل کھیل کیا ہے، یہ مٹھی بھر افراد ہی جانتے ہیں۔

بقول فہد، اس کھیل میں خطرات بہت ہیں۔ اپوزیشن نے تحریکِ عدم اعتماد پر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ اب پیچھے ہٹنے کی سیاسی قیمت ادا کرنا ہوگی اور اگر شکست ہو گئی تو اپوزیشن اور بھی بہت کچھ ہار جائے گی۔ حکومت بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور جانتی ہے کہ اس کے پاس اب وہ تمام ہتھیار موجود نہیں جو چند ماہ پہلے تک تھے۔ مگر پھر بھی، یہ اپنے ماضی سے حوصلہ لے سکتی ہے۔

فہد حسین یاد دلاتے ہیں کہ کہ ماضی میں وزرائے اعظم کے خلاف تحاریکِ عدم اعتماد کے ناکام ہونے کی ایک تاریخ ہے۔ چکروں کے اندر چکر ہیں جو بے موقع بھی گھومتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر جب ان کا گھومنا حقائق سے زیادہ اندازوں پر ہو۔ آج کے حالات میں اندازہ یہ لگانا ہے کہ آیا اسٹیبلشمنٹ واقعی پیچھے ہٹ گئی ہے یا نہیں۔

ریڈ زون میں ہر کوئی ہوا سونگھ رہا ہے کہ حالات کی کچھ سن گن لے سکے۔ کانوں کو زمین سے لگائے کچھ لوگ کچھ معلومات سامنے لے آتے ہیں، لیکن یہ مکمل نقشہ کھینچنے کے لئے ناکافی ہے۔ مثال کے طور پر حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے ایک رکن کو سٹیٹ بینک کے بل پر فون کال آئی اور کہا گیا کہ شاید یہ اس طرح کی آخری کال ہو گی۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق ایسے ثبوتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو اسکے لئے حوصلہ بخش ہے۔

لیکن حوصلے سے زیادہ اس وقت اسے نمبرز کی ضرورت ہے۔ یہ نمبرز حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی مل سکتے ہیں اور اس کے اپنے ناراض اراکین سے بھی۔ اپوزیشن کے پاس قومی اسمبلی میں 163 ارکان ہیں اور عمران کو ہٹانے کے لئے اسے 172 کی ضرورت ہے۔ 9 ووٹوں کی اکثریت کوئی بہت بڑا ہندسہ نہیں ہے لیکن اپنے تمام اراکین کی حاضری یقینی بنانا اور پھر نو اضافی ووٹوں کے علاوہ بیک اپ کے لئے کچھ اضافی ووٹ حاصل کرنا آسان کام نہیں۔

کیا وقت سے پہلے نئے آرمی چیف کی تقرری کرنا ممکن ہے؟

لیکن بقول فہد حسین ایک آدمی ہے جس کے لئے یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ یہ شخص لندن میں بیٹھا ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہ جیت سکتا ہے۔ ورنہ وہ اس موقع پر اپنا بیانیہ، اپنی پوزیشن اور اپنی حکمتِ عملی کیوں تبدیل کرے گا جب کہ وہ باآسانی ایک سال اور انتظار کر سکتا ہے؟ نواز شریف کے پاس کچھ ایسی معلومات ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔

ان کے پاس سیاست کا وسیع تجربہ ہے اور وہ اتنے بیوقوف نہیں کہ یوں لاپروائی سے اتنا بڑا جوا کھیل جائیں۔ اگر انہوں نے اس وقت اپنے سب سے بڑے دشمن کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے لئے ہاں کی ہے تو ان کے پاس اس کی کوئی منطق موجود ہو گی۔ سیک بست طے یے کہ ہواؤں نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔ اور یہ خاصی بڑی تبدیلی ہے۔

فہد حسین بتاتے ہیں کہ الیکشن 2013 کے کچھ ہی عرصے بعد ایک ‘اسلام آباد معاہدہ’ طے پایا تھا۔ اس کے مطابق ملک کی سمت اور لیڈرشپ کو تبدیل کر کے اس کی راہ تبدیل کیے جانا تھی۔ اس معاہدے کی رو سے عمران خان کو وزیر اعظم بنایا گیا اس امید پر کہ پاکستان کی گورننس کا طریقہ تبدیل ہو جائے گا۔ 2018 انتخابات کے بعد یہ معاہدہ ایک ‘ہائبرڈ نظام’ کی شکل میں سامنے آیا جو اس نئے ماڈل کو کامیاب کرانے کی نیت سے تشکیل دیا گیا تھا۔
پھر چھ ماہ قبل یہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔ وہ ماڈل جسے تشکیل دینے میں سالوں لگے تھے، کمزور ٹانگوں پر کھڑی ایک حکومت کا وزن برداشت نہ کر سکا۔

کیا ایک نیا ‘اسلام آباد معاہدہ’ طے پا سکتا ہے؟ اس وقت معاملات کی تیزی یہ بتاتی ہے کہ اس معاہدے کے خدوخال وضع کیے جا رہے ہیں اور اس کے متوقع نتائج پر غور ہو رہا ہے۔ ریڈ زون سے ملنے والی کچھ اطلاعات اس نئے معاہدے کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گذشتہ معاہدے میں سامنے آنے والے مسائل پر دوبارہ سے غور کیا جا رہا ہے اور انہیں ٹھیک کرنے کے طریقے سوچے جا رہے ہیں۔ ایک اہم پوزیشن پر ہوئی تبدیلی نے ان مسائل پر نظرِ ثانی کا راستہ کھولا ہے اور پچھلے کچھ ماہ میں بہت سے زخم بھرے ہیں۔ ریاست کے مختلف ستونوں میں رشتہ دوبارہ سے استوار ہوا ہے۔

لیکن فہد کے بقول سیاسی مسائل سے نمٹنا قدرے مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ گیم کے نتائج کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن یہ بے یقینی زیادہ دیر نہیں رہے گی۔ جہانگیر ترین گروپ کے پاس ایک ایسی چابی ہے جو بہت سے تالے کھول سکتی ہے اور نئی ستیتھیاں سامنے لا سکتی ہے۔ اس گروپ کے پاس پانسہ پلٹنے کے لئے کافی تعداد موجود ہے۔

لیکن اس کے لیڈر کو پتہ ہے کہ چیزیں ہمیشہ ایسی ہوتی نہیں جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ اس نے صبر اور تزویراتی خاموشی سے اپنا مشکل وقت کاٹا ہے۔ لیکن اب اس کا فیصلہ کھیل پلٹ سکتا ہے۔ وہ بڑی گیم پر نظر رکھنے والا بندا ہے اور بڑی گیم ہی دیکھ رہا ہے۔ ان ہاؤس تبدیلی ایک بڑے کھیل کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس کینوس پر بنے تجریدی آرٹ کو عدم اعتماد کے بعد کی تصویر بھی دکھانا ہوگی، اور یہ بھی کہ اگر کوئی نیا معاہدہ ہونا ہے تو اس میں اس کی جگہ کیا ہوگی۔ ان حالات میں میچ آخری بال تک جا رہا ہے۔ لہذا اس ماہ یا زیادہ سے زیادہ اگلے ماہ، لیکن اس مرتبہ فیصلہ ہو کر رہنا ہے۔

Back to top button