کراچیNA240ضمنی الیکشن : ایم کیو ایم نے میدان مار لیا

شہر قائد کے علاقے کورنگی میں این اے 240 کی نشست کےغیر سرکاری نتائج کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے محمد ابوبکر نے میدان مار لیا ہے۔
این اے 240 کورنگی کراچی 2 کے ضمنی الیکشن کے 309 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج آگئے ہیں جن کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے محمد ابوکر10683 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے شہزادہ شہباز ز10618 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
ملائیکا اروڑا کم عمرمردوں کی دیوانی کیوں ہیں؟
اس کے علاوہ مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین نے8349 اور پیپلز پارٹی کے ناصر رحیم کو 5240 ووٹ ملے جبکہ پاک سر زمین پارٹی کے شبیر قائم خانی نے 4782 ووٹ لیے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ کا ٹرن اور 8.38 فیصد رہا، کل ووٹرزکی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 855 ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز احمد چوہان کا کہنا ہے کہ پولنگ اسٹینشن نمبر 51 کا نتیجہ روکا نہیں، اس کا ا نتیجہ ابھی جاری کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کہاجارہا تھا کہ این اے 240 کے حتمی نتیجے کا اعلان آج نہیں کیا جائے گا کیونکہ پولنگ اسٹیشن نمبر 51 کے نتائج کشیدگی کی وجہ سے روک لیے گئے ہیں، پولنگ اسٹیشن 51 میں ہنگامہ آرائی کے باعث الیکشن کمشنر سندھ نے نتائج روکنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ این اے 240 کے ضمنی الیکشن میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا کسی تعطل کے جاری رہی۔
ادھر این اے 240 ضمنی انتخاب کے دوران ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا، ووٹرز گھروں سے نہیں نکلے، پولنگ کے دوران سہ پہر تین بجے تک ٹرن آؤٹ 5 فیصد تھا، چھٹی کا روز نا ہونے کے باعث ووٹرزووٹ نہ ڈال سکے، سیاسی جماعتوں کے انتخابی کیمپ پر بھی سناٹا رہا۔
خیال رہے کہ این اے 240 کے حلقے میں لانڈھی اور کورنگی عبداللہ شاہ نورانی ٹاؤن، لانڈھی بابر مارکیٹ، شاہ خالد کالونی، زمان آباد، کرسچن کالونی، جام نگر، خضر آباد، خرم آباد، پیر بخاری کالونی شامل ہیں۔
اس حلقے کی آبادی 8 لاکھ 54 ہزار سے زائد ہے، حلقے میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 29 ہزار 855 ہے، جن میں مرد ووٹرز 2 لاکھ 94 ہزار 385، اور خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 35 ہزار 470 ہے، 2018 کے الیکشن میں ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی 61 ہزار 165 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، ان کے 19 اپریل کو انتقال کے باعث سے یہ نشست خالی ہو گئی تھی۔
قومی اسمبلی کےاس حلقے میں309 پولنگ سٹیشنز ہیں، حساس پولنگ اسٹیشن 106 جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 203 ہے ، حلقے میں 21 امیدوار میدان میں ہیں، آزاد امیدوار 15 جبکہ سیاسی جماعتوں کے 6 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔آزاد امیدوار عمیر علی انجم ایم کیو ایم امیدوار کے حق میں دست بردار ہوگئے ہیں، آزاد امیدوار نعیم حشمت نے بھی دست برداری کا اعلان کر دیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) میئو برادری اور قریشی برادری نے اس حلقے سے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے، آزاد امیدوار شاہین خان نے مہاجر قومی موومنٹ کے امیدوار کے حق میں دست برداری کا اعلان کیا۔
ادھر مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا، تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا۔
