خدیجہ شاہ کیلئے ریلیف مانگنے والے ناکام کیوں ہوئے؟

سانحہ 9 مئی کی مرکزی ملزم قرار دی جانے والے سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی اور سابق آرمی چیف آصف جنجوعہ کی نواسی خدیجہ شاہ گرفتاری پیش کرنے کے اعلان کے باوجود ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔سینئر صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنوں کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، خدیجہ شاہ اب تک مفرور ہیں حالانکہ فوج کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ رحمدلی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی پوتی اب تک مفرور ہیں اور خود کو پولیس کے حوالے نہیں کر رہیں۔ تاہم، ان کے شوہر پولیس کی حراست میں ہیں۔ انہیں پہلے اپنی اہلیہ کو چھپانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ تاہم، خدیجہ کے شوہر جہانزیب امین اب تک پولیس کی حراست میں ہیں۔ جہانزیب امین ایک اور جرم میں بھی مطلوب ہیں جسے خدیجہ کی گرفتاری کیلئے ایک جال کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ 8.3؍ ملین روپے کے جعلی چیک کیس میں وہ اشتہاری ملزم ہیں۔ اب انہیں عجیب صورتحال کا سامنا ہے۔
اس حوالے سے ایک ذرائع نے بتایا کہ خدیجہ کی گرفتاری پر جہانزیب کو آزادی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ناکامی پر جعلی چیک کیس انہیں کوٹ لکھپت تک لے جا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس کے ہاتھوں دھر لیے جانے کے بعد انہوں نے فوراً تعاون شروع کر دیا۔ ان ہی کی مخبری پر پولیس نے گلبرگ میں ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا لیکن پولیس والوں کی آمد سے چند منٹ قبل ہی خدیجہ وہاں سے فرار ہو چکی تھی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جس اپارٹمنٹ میں خدیجہ روپوش تھیں وہ جہانگیر ترین کی بیٹی مہر ترین اور ان کے شوہر عمر شیخ کی ملکیت ہے۔ جس وقت پولیس وہاں پہنچی تو دونوں اپارٹمنٹ پر موجود تھے۔
عمر چیمہ کے مطابق جہانگیر ترین نے مشکل گھڑی میں ان کی مدد کی ناکام کوشش کی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور جہانگرترین کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے پولیس سے ر ابطہ کیا لیکن ان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہوئیں۔ اگرچہ خدیجہ کا کیس نمایاں ہو چکا ہے جس کی وجہ ان کا پولیس کے روبرو پیش نہ ہونا ہے دوسری طرف جہانگیر ترین کے طرز عمل سے ا میر لوگوں کی سوچ کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ کس طرح یہ لوگ سیاسی اختلاف کے باوجود آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ ترین فیملی کے علاوہ، کچھ دیگر طاقتور کھلاڑی بھی تھے جن سے رابطہ کرکے خدیجہ کیلئے ریلیف مانگا گیا۔ ان میں سے ایک چوہدری شجاعت حسین ہیں۔ وہ خدیجہ کے نکاح میں بطور گواہ پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے بھی مدد کی کوشش کی لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ فوج نے 9؍ مئی میں ملوث افراد کیلئے عدم برداشت کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ خدیجہ کے سسر، سرمد امین وزیراعظم شہباز شریف کے پرانے دوست ہیں۔ انہوں نے بھی کچھ ملاقاتیں اُن سے کیں جن میں سے ایک ملاقات پیر کو ہوئی، لیکن وزیراعظم انہیں کوئی مدد فراہم نہ کر سکے۔ انہوں نے صرف یہ کیا کہ پولیس کو ہدایت کی معاملے میں صرف قانون سے کام لیا جائے۔
ایک مصدقہ پولیس عہدیدار نےبتایا کہ فوج کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ واقعے میں ملوث کسی شخص کو نہیں چھوڑنا۔ آرمی چیف کے حالیہ دورۂ لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے ذریعے نے بتایا کہ آرمی چیف نے پولیس کی کارروائی کی تعریف کی اور کہا کہ مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ایک موقع پر انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ گرفتاری قانونی طریقے سے کی جائے اور خواتین ملزمان کے ساتھ بدتمیزی نہ کی جائے۔ خدیجہ امریکی شہری ہیں اور انہوں نے کئی آڈیو پیغامات چھوڑے ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف کور کمانڈر ہائوس کے باہر موجود تھیں لیکن توڑ پھوڑ میں ملوث نہیں۔ ذرائع کے مطابق جس طرح کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اسی طرح کور کمانڈر لاہور جنرل سلمان غنی کیخلاف بھی انکوائری ہو رہی ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو کیوں اپنے گھر کے اندر داخل ہونے دیا اور توڑ پھوڑ ہونے دی۔ ان کی مختلف شخصیات کے ساتھ وابستگی کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سلمان غنی کی اہلیہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی فرسٹ کزن ہیں۔
