عمران خان کے حق میں گایا ہوا کمار سانو کا گانا جعلی نکلا

پچھلے کچھ ہفتوں سے پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل بھارتی گلوکار کمار سانو کا اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے حق میں گایا ہوا گانا جعلی نکلا ہے۔ گلو کار کمار سانو نے اس حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے عمران کے حق میں کوئی گانا نہیں گایا اور یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی پیداوار ہے۔
یوتھیے اپنے کپتان کا موازنہ اولمپئین ارشد ندیم سے کیوں کرنے لگے؟
سنہ 1993 میں جب انڈین گلوکار کُمار سانو نے فلم ’پھول اور انگار‘ کے لیے گان ’چوری چوری دل تیرا چرائیں گے، اپنا تمھیں ہم بنائیں گے‘ گایا ہو گا تو ان کے وہم و گمان بھی نہیں ہو گا کہ 31 برس بعد انھیں اس گانے سے متعلق پاکستانیوں کے لیے وضاحتیں جاری کرنی پڑیں گی۔
گذشتہ کچھ ہفتوں سے پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شیئر کیا گیا کُمار سانو کی آواز میں ایک گیت گردش کر رہا ہے جس کے بول کچھ اس طرح ہیں: ’عمران خان کو آزاد کرائیں گے، وزیراعظم بنائیں گے۔‘ اس گانے میں بس ایک ’چھوٹا سا‘ مسئلہ یہ تھا کہ یہ آواز بھلے ہی کمار سانو کی لگ رہی تھی لیکن درحقیقت ان کی تھی نہیں۔ اس ’جعلی گیت کے بارے میں یقیناً کمار سانو کو پتا چلا تو انھوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے اس حوالے سے وضاحت جاری کرنا ضروری سمجھا۔ انھوں نے لکھا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی پاکستان کے سابق وزیراعظم کے لیے کوئی گانا نہیں گایا۔‘
خیال رہے کہ عمران خان گذشتہ برس 5 اگست سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ کمار سانو نے اپنی انسٹاگرام کی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’فیس بُک پر گردش کرنے والی آڈیو میں جو آواز ہے وہ میری نہیں بلکہ آرٹیفشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے بنائی گئی ہے۔‘ انڈین گلوکار مزید لکھتے ہیں کہ ’کچھ لوگ مجھے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک فیک نیوز ہے۔‘ کمار سانو نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکیں کیونکہ ان کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کمار سانو کی آواز کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کلون کرتے ہوئے کس نے استعمال کیا اور یہ معلوم کرنا کہ یہ انٹرنیٹ پر سب سے پہلے کس اکاؤنٹ کے ذریعے اور کہاں اپ لوڈ کیا گیا بھی خاصا مشکل عمل ہے۔ تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ کمار سانو کی اواز میں یہ گانا پی ٹی ائی کے ڈیجیٹل میڈیا ٹیم نے بنا کر اپلوڈ کیا ہوگا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں تحریکِ انصاف کی جانب سے اپنے بانی عمران خان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کی جیل میں موجودگی کے باعث ان کی جماعت نے الیکشن سے قبل عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ’ورچوئل جلسے‘ کا راستہ اپنایا تھا اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے عمران خان کا ’وائس کلون‘ بھی تیار کیا تھا۔ یعنی عمران خان تو جیل میں تھے لیکن پانچ اگست 2023 کے بعد سے عمران خان کے خطاب سننے کے منتظر اُن کے حامیوں کو بلآخر اُن کی تقریر سُننے کو ملی جو اگرچہ انھوں نے براہ راست نہیں کی لیکن آواز انھی کی آواز سے مشابہت رکھتی تھی۔
لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی گلوکار یا موسیقار نے مصنوعی ذہانت سے بنائی جانے والی موسیقی یا گانے پر اعتراض کیا ہو۔ اس سے قبل انڈین گلوکار اریجیت سنگھ نے کچھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے موسیقی بنانے والے پلیٹ فارمز کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ حال ہی میں بمبئی ہائی کورٹ نے آرٹیفشل انٹیلیجنس کی مدد سے موسیقی بنانے والے پلیٹ فارمز کو حکم دیا تھا کہ وہ کاروباری یا ذاتی فائدے کے لیے اریجیت سنگھ کی آواز، تصاویر اور اندازِ گلوکاری کا استعمال بند کر دیں۔ اس سے قبل بلّی ایلش اور نکی مناج سمیت دُنیا کے 200 سے زائد گلوکاروں نے ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے گلوکاروں کی آواز چُرانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم کچھ موسیقار اور گلوکار ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا بہتر استعمال موسیقی کو چار چاند لگا سکتا ہے۔
