ججز کودھمکی آمیز خطوط بھیجنے والا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟

اعلی عدلیہ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط لکھنے کے معاملے کی کڑیاں آپس میں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ جہاں ایک ہی شخص کے ریشم، ریشماں اور گلشاد سمیت مختلف ناموں سے خطوط لکھنے کا انکشاف ہوا ہے وہیں دوسری جانب  خطوط میں ملنے والے آرسینک پاؤڈر کا خریدار بھی فرد واحد نکلا۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کے معاملے پر تحقیقاتی ٹیموں نے خطوط میں ملنے والے کیمیکل اور اس کی سپلائی کی بھی تفتیش شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے 4، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کو بھیجے گئے دھمکی آمیز مشکوک خطوط کی تحقیقات تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکی ہیں، خطوط کی لکھائی کی فورینزک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تمام ججز کو بھیجے گئے خطوط پر تحریرایک ہی شخص کی ہے۔

دوسری جانب مشکوک خطوط کی تحقیقات پر مامور محکمہ انسداد دہشت گردی سی ٹی ڈی پنجاب اور اسلام آباد پولیس کو یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان خطوط میں ملنے والا آرسینک پاؤڈر بھی ایک ہی شخص نے خریدا تھا تاہم یہ پاؤڈر زہریلا نہیں تھا۔

سی ٹی ڈی کو موصولہ خطوط کی لکھائی کی فرانزک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام خطوط ایک ہی شخص نے لکھے ہیں، خطوط ریشم، ریشماں اور گلشاد خاتون کے نام سے بھیجے گئے تاہم ہر خط پر موجود تحریر ایک جیسی ہی ہے ۔دھمکی آمیز خطوط کی تحقیقات میں ایک اور چیز بھی سامنے آئی ہے کہ تمام ججز کو خطوط ایک ہی وقت میں لکھ کر بھیجے گئے، تاہم چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے دیگر 4 ججز کو یکم اپریل، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز کو 2 اپریل جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے 4 ججز کو 3 اپریل کو موصول ہوئے تھے۔

سی ٹی ڈی پنجاب کی تحقیقات میں ایک اور چیز بھی سامنے آئی ہے کہ خطوط میں ڈالا گیا آرسینک پاؤڈر بھی ایک ہی شخص نے خریدا ہے، آرسینک پاؤڈر جس جس پنسار اسٹور پر دستیاب ہے ان کی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں اور تحقیقاتی ٹیم ان اسٹورز کا دورہ کر کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے مختلف پوسٹ باکس کے ارد گرد کی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے، پوسٹ باکس اور پنسار اسٹورز سے اب تک حاصل کی گئی سی س ٹی وی فوٹیجز اور خطوط بھیجنے والوں کے نام شناخت کے لیے نادرا کو بھیج دیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریشم، ریشماں اور گلشاد خاتون کے نام سے خطوط ایک ہی شخص نے لکھے اور سپریم کورٹ، اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹس کو بھجوائے گئے خطوط ایک ہی پوسٹ آفس سے بھجوائے گئے۔خط پوسٹ کرنے والے کی شناخت کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے پوسٹ باکسز کے قریب سے حاصل سی سی ٹی وی ویڈیوز کا نادرا سے شناخت کا عمل جاری ہے۔ذرائع سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھجوانےکا ماسٹر مائنڈ ایک ہی شخص ہے۔سی ٹی ڈی ذرائع نے بتایا کہ ججز کے خطوط میں ڈالا گیا آرسینک پاؤڈر بھی ایک ہی شخص نے خریدا۔ جب کہ خطوط میں موجود آرسینک جس مقام سے خریدا گیا۔ تفتیشی اہلکار اس کے بھی قریب پہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط ملنے کے معاملے پر وفاقی پولیس نے وزارت داخلہ کو تفتیشی رپورٹ ارسال کر دی ہے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ جمع کرائی جارہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2 اپریل کو ہائیکورٹ کے 8 ججز کو مشکوک خطوط ملے۔ 3، 4 اور 5 اپریل کو سپریم کورٹ ججز کو بھی خطوط موصول ہوئے۔ معاملے کے الگ الگ 2 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خط پر آرسینک پاؤڈر پایا گیا جس کی مقدار زہریلی نہیں تھی۔ آرسینک جن پنسار سٹورز سے ملتا ہے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا۔تفتیشی ٹیمیں ان تمام دکانوں کے دورے کررہی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی کی راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے 2 ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور خطوط بھیجنے والوں کے نام نادرا کو بھجوا دیے۔ لفافوں پر تحریر اور سیاہی کے تجزیہ کے لیے ایکسپرٹس کو بھجوا دیا گیا۔ خط پر لگائی جانے والی پوسٹل سٹیمپ کا بھی تجزیہ کیا جارہا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشکوک خطوط میں موجود پاؤڈر کا لیب ٹیسٹ کرایا گیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ پاؤڈر میں آرسینک کی زہریلی مقداد 11 سے 17 فیصد تک تھی،واضح رہے کہ آرسینک کی مقدار 70 فیصد سے زائد ہونے پر انسانی صحت کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں، تاہم اسے زیادہ سونگھنے سے اعصاب بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

Back to top button