چین اور امریکہ کی لڑائی پاکستان کو کیسے بھگتنا پڑ گئی؟

پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام بشمول طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے چار ‘سپلائرز’ پر امریکی پابندیوں کا معاملہ پاکستان میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔جہاں ایک طرف پاکستان نے امریکی پابندیوں کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے وہیں ماہرین امریکہ اور چین کی جاری مخاصمت کوتاہیاں ہر پابندیوں کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی حکام نے چین سے کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کو نشانہ بنایا ہے تاہم امریکی پابندیوں کے باوجود پاکستان کے میزائل پروگرام پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔خیال رہے کہ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں کا تعلق چین اور بیلاروس سے ہے جو پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام سمیت بیلسٹک میزائل پروگرامز کے لیے متعلقہ اشیا فراہم کر رہی تھیں۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا بیلسٹک میزائل پروگرام یا طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل پروگرام کیا ہے؟اورٹیکنالوجی اور پرزہ جات فراہم کرنے کے الزام میں چار ‘سپلائرز’ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے سے پاکستان کے میزائل پروگرام پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں پاکستان اور چین کو ایک پیغام ہے اور اس اقدام کو بیجنگ واشنگٹن مخاصمت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ تاہم امریکہ کی طرف سے یہ پابندی ایک معمول کے عمل کے ذریعے لگائی گئی ہے کیونکہ یہ پابندی اعلٰی سطح پر کسی فیصلہ سازی کے نتیجے میں نہیں لگائی گئی۔ لہذٰا اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس پابندی کا ہدف پاکستان نہیں بلکہ چین ہے اور اسلام آباد کا نام صرف ثبوت کے طور پر لیا گیا ہے کہ چینی کمپنیوں نے پاکستان کو آلات فراہم کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 80 کی دہائی میں جب خطے کے معروضی حالات کے پیشِ نظر امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے نظریں چرا رکھی تھیں تو اس وقت بھی امریکہ نے یورپ کی بعض کمپنیوں پر پاکستان کو پرزے فراہم کرنے پر پابندی لگائی تھی۔ تجزیہ کاروں کے بقول اس عمل کا مقصد یہ بھی ہو گا کہ پابندی والی چینی کمپنیاں ان کے اتحادی ممالک کی نظر میں آ جائیں اور بیجنگ کو یہ پیغام بھی ہو گا کہ ان کی سرگرمیاں واشنگٹن کی نظر میں ہیں۔

دوسری جانب سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) آصف یاسین ملک کہتے ہیں کہ نیوکلیئر یا میزائل پروگرام پر پابندیاں امریکہ کی دھمکانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ موجودہ پابندی سیاسی بنیاد پر لگائی گئی ہے جس کا مقصد پاکستان کی موجودہ حکومت اور فوجی قیادت کو دباؤ میں لانا ہے۔جنرل (ر) آصف یاسین ملک کہتے ہیں کہ امریکی پابندی لگانے سے سیاسی مقاصد تو حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے پاکستان کے میزائل پروگرام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب دفاعی امور کے ماہر سید محمد علی کہتے ہیں کہ امریکہ کی ان پابندیوں کو بیجنگ اور واشنگٹن کی تجارتی و معاشی مخاصمت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے کہ وہ حلیف ممالک کے ساتھ مل کر چین کی معاشی ترقی کا راستہ روکے۔ تاہم ان پابندیوں سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں یا میزائل پروگرام کی استعداد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ نوے کی دہائی سے ہی پاکستان بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے خود کفیل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان پابندیوں کا پاکستان سے براہ راست کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔سید محمد علی کہتے ہیں امریکہ اپنے اہم اتحادی برطانیہ کو چین سے ایٹمی بجلی گھر اور بھارت کو فائیو جی لینے سے روک چکا ہے اور واشنگٹن قومی سلامتی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے ہر ملک پر دباؤ ڈالے گا کہ چین سے لین دین نہ کیا جائے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس طویل، محدود اور کم فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے سو کلومیٹر سے لے کر 2700 کلومیٹر تک پہنچنے والے میزائل موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس میزائل کے پرزوں کی وافر مقدار پہلے سے موجود ہے اور اگر ضرورت پیش آتی ہے تو میزائل پروگرام کے لیے یہ پرزے ان چار کمپنیوں کے بجائے دیگر کمپنیوں یا ذرائع سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Back to top button