ایرانی صدر کے دورے میں گیس پائپ لائن منصوبے کا ذکر غائب کیوں؟

پاکستان میں رواں برس آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد بطور سربراہ مملکت پاکستان کا پہلا دورہ کرنے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی تین روزہ دورے کے بعد واپس ایران روانہ ہو چکے ہیں۔ ایرانی صدر کے دورے کے موقع پر توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرنے کے لیے اہم سمجھے جانے والے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے مستقبل سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئیں گے مگر ایرانی صدر کی جانب سے کی جانے والے اہم ملاقاتوں کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس اور سرکاری پریس ریلیز میں اس اہم منصوبے کا تذکرہ غائب رہا۔نہ تو اس کا کوئی حوالہ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں سامنے آیا اور نہ ہی کسی وزیر یا مشیر کے بیان میں اس کا تذکرہ ملا۔

اس صورتحال کے بعد متعدد سوالات نے جنم لیا کہ اس اہم منصوبے پر خاموشی کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا پاکستان مبینہ ممکنہ امریکی دباؤ میں اس پر منصوبے پر بات کرنے سے گریزاں ہے یا یہ دونوں ممالک کا ایک سوچا سمجھا اقدام ہے؟ اور اگر اس اہم منصوبے پر ہی بات نہیں ہو رہی تو دونوں ممالک کو ایرانی صدر کے اس دورہ پاکستان سے کیا فوائد حاصل ہوں گے؟مگر ان سوالات کے جوابات کی طرف جانے سے قبل ایک نظر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق تفصیلات پر ڈال لیتے ہیں کہ بنیادی طور پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کیا ہے؟

پاکستان اور ایران کے درمیان 7.5 ارب ڈالرز مالیت کا گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آخری دنوں میں اُس وقت ہوا تھا جب اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ایران کا دورہ کیا۔ ابتدائی طور پر پاکستانی حکام کی جانب سے اس منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے توانائی کے بحران کا حل قرار دیا گیا تھا۔تاہم اس منصوبے کے افتتاح کے کچھ ہی عرصے بعد ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

سنہ 2013 میں آنے والی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اور سنہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے دور میں اس منصوبے پر کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی۔ تاہم پی ڈی ایم حکومت کے دور میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اس منصوبے پر کام کے لیے جنوری 2023 میں ایک کمیٹی قائم کی تھی اور پاکستان کی سابق نگران حکومت کی جانب سے ایک سال سے زائد عرصے کے بعد رواں برس فروری میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے اس منصوبے کے 80 کلومیٹر کے ایک حصے کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔مگر اس کے فوراً بعد اس منصوبے پر امریکہ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا، جس کی وجہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں قرار دی گئی تھیں اور امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ منصوبے پر کام کرتے ہوئے پاکستان کو بھی معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جبکہ اس منصوبے پر تاخیر نے پاکستان کو پہلے ہی مشکل صورت میں ڈال رکھا ہے کیونکہ ایک طرف اپنے حصے پر پائپ لائن بچھانے کا کام نہ کرنے پر ایران کی جانب سے عالمی اداروں کے ذریعے پاکستان پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ دوسری صورت میں امریکہ کی جانب سے پہلے سے کمزور پاکستانی معیشت پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔تاہم ایرانی صدر کے دورے کے دوران اس منصوبے بارے کوئی پیشرفت سامنے نہ انے پر سفارتی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ پاکستان اور ایران کی گیس لائن منصوبے پر خاموشی کی وجوہات کیا ہیں؟

عالمی امور کی ماہر ڈاکٹر ہما بقائی کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کی جانب سے ایران، پاکستان گیس لائن منصوبے کا تذکرہ نہ کرنا ایک عقلمندانہ اقدام ہے۔ ’اگرچہ پاکستان پر امریکی پابندیوں کا دباؤ موجود ہے، لیکن میرے خیال میں یہ دونوں ممالک کا دانستہ فیصلہ ہے کہ اس دورے کے دوران اس معاملے پر خاموشی اختیار کی جائے۔‘انھوں نے کہا کہ ’کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایسی چیز پر بات کی جائے جو شروع ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہی نہیں۔ پاکستان کی بھی اس منصوبے سے متعلق پوری تیاری نہیں ہے اور ایران کی جانب سے بھی گیس کی قیمت کے تعین پر مسئلہ ہے، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق دونوں ممالک میں کچھ اہم مسائل ہیں جو ابھی حل طلب ہیں۔ہما بقائی کہتی ہیں کہ ’پاکستان نے ابھی تک امریکہ سے اس متعلق باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کیے ہیں کہ گیس پابندیوں کے زمرے میں نہیں آتی اور یہ کہ پاکستان پابندیوں کی زد میں آئے بغیر اس منصوبے کو کیسے آگے بڑھا سکتا ہے۔‘

دوسری جانب امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر خاموشی کی وجہ تو دونوں ممالک کے ذمہ دار حکام ہی بہتر بتا سکتے ہیں تاہم بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں ممالک اس منصوبے سے متعلق معاملات کو موجودہ صورتحال میں عوامی سطح پر نہیں لانا چاہتے۔اُن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر ابھی دونوں ممالک کی جانب سے کچھ مسائل ہیں اور میرے خیال میں دونوں ممالک نے یہ فیصلہ کیا ہے جب تک اس متعلق معاملات کو حل نہ کر لیا جائے تب تک اسے بلاوجہ عوامی سطح پر نہ لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ میری رائے میں یہ دونوں ممالک کا سوچا سمجھا اقدام ہے کہ اس منصوبے پر قبل از وقت کوئی بات نہ کی جائے۔ڈاکٹر میلحہ لودھی کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اُس کے ایران کے ساتھ تعلقات مستحکم اور مضبوط رہیں، کیونکہ مشرق اور مغرب میں موجود دونوں مُمالک یعنی افغانستان اور انڈیا کے ساتھ سرحد پر کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تو ایسے میں پاکستان ایران کے اچھے تعلقات دونوں مُمالک کے لیے ضروری ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ’ظاہر ہے کہ امریکہ پاکستان اور ایران کے اچھے اور مستحکم تعلقات سے خوش نہیں ہو گا اور یہ اُن کے مفاد میں نہیں ہو گا مگر پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ اُس کے ایران کے ساتھ

مولانا فضل نے سنی اتحاد کونسل کو کوہاٹ سے الیکشن کیوں جتوایا؟

اچھے تعلقات ہوں۔

Back to top button