گورنر راج کےبعدعلی امین گنڈاپور کو اہم ٹاسک مل گیا

پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے لیے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی پارلیمانی قیادت نے علی امین گنڈاپور کو سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور گورنر راج کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے تمام ممکنہ راستے اختیار کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کا اہم آن لائن اجلاس ہوا جس میں صوبائی اسمبلی کے 2 ارکان نے تصدیق کی کہ تقریباً 67 ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے علاوہ سابق صوبائی کابینہ کے ارکان اکبر ایوب، نذیر عباسی، ظاہر شاہ طورو، خلیق الرحمان، ریاض خان، عارف احمد زئی، آفتاب عالم، سجاد بارکوال اور عدیل اقبال سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز پر متعدد ارکان نے پارٹی قیادت سے شکوہ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد انہیں کسی واضح حکمت عملی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ تاہم، شرکا نے اتفاق کیا کہ ماضی کے معاملات کو پیچھے چھوڑ کر آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے تصدیق کی کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کے رابطے اب بھی برقرار ہیں۔ اس کے بعد شرکا نے اتفاق کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کو طول پکڑنے سے روکنے اور سہیل آفریدی کی حکومت بحال کرانے کے لیے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے فوری مذاکرات ضروری ہیں۔
