عمران کے کونسے ساتھی ان سے دوری اختیار کرنے والے ہیں؟

بھائی لوگوں کی جانب سے تحریک انصاف کے چند اہم ترین رہنماؤں کو عمران خان سے دوری اختیار کر کے نئی سیاسی شناخت کے تحت آگے بڑھنے کی تجویز دی گئی ہے جس پر جلد مثبت پیشرفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معروف تجزیہ کار اور اینکر پرسن منیب فاروق نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ دعوی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کو درپیش موجودہ بحران کے اگلے مرحلے میں یہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے کہ وہ خان کی انتشاری سیاست سے فاصلہ اختیار کرکے نئی سیاسی شناخت کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی میں تحریک انصاف کا نام یا سیاسی راستہ تبدیل کرنے کا دباؤ بھی شامل ہو سکتا ہے، جبکہ عمران خان کے ساتھ وابستگی برقرار رکھنے والے رہنماؤں کو خلاف درج مقدمات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی یہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ جیل میں قید پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور قومی اسمبلی میں موجود پارٹی کے چیئرمین گوہر خان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ منیب فاروق نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ عملاً ختم ہو چکا ہے اور اس وقت پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں وہ شدت دکھائی نہیں دے رہی جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان کے بقول لانگ مارچ کی قیادت اور سمت بھی واضح نہیں، کیونکہ پارٹی کے متعدد رہنما روپوش ہیں یا گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو اب محض احتجاج کے نتائج کا سامنا نہیں ہے بلکہ اسے اپنی سیاسی شناخت اور قیادت کے بڑے چیلنجز بھی درہیش ہیں۔
منیب فاروق کے مطابق تحریک انصاف کے حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی سے پارٹی کی ساکھ کو ایک بڑا دھچکا پہنچا ہے جس کے بعد وہ لیڈرشپ جو ماضی میں پارٹی کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی اب اس تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے پارٹی رہنماؤں کو آگے لانے کا موقع دیا جا سکتا ہے جو عمران سے الگ ہوکر نئی شناخت کے تحت سیاست کرنا چاہیں۔ تاہم، پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ابھی بھی کسی مرکزی پارٹی رہنما کے لیے بغاوت کرنا آسان نہیں ہو گا، کیونکہ یہ لوگ خان کی مقبولیت اور حمایت کی بنیاد پر پارلیمان تک پہنچے تھے۔ اگر وہ بغاوت کرتے ہیں تو انہیں سخت عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا بالخصوص خیبر پختونخوا میں ایسے رہنماؤں کے لیے عمران خان کی حمایت کے بغیر اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔
منیب فاروق نے خیبر پختون خوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے تناظر میں تحریک انصاف کے ردعمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ جس بڑے عوامی احتجاج کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی، وہ تاحال سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور بھی کافی کم ہو گئی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے بھرپور مزاحمت کے اعلانات کے باوجود کسی بڑے احتجاجی کا نہ ہونا تحریک انصاف کے موجودہ بحران کو مذید نمایاں کرتا ہے۔ منیب نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر بھی موجودہ صورتحال کی وجوہات اور قیادت کو دیے جانے والے مشوروں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
منیب فاروق نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں گزشتہ تیرہ برس کے حکومتی معاملات، ترقیاتی منصوبوں اور مالی وسائل کے استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کرپشن میں ملوث تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف سخت ترین کارروائی کا امکان ہے۔ ان کے مطابق منشیات کے کاروبار، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی، کان کنی، ٹھیکوں کی الاٹمنٹ اور تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والے معاملات کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو سیاسی دباؤ کے ساتھ قانونی اور تنظیمی محاذوں پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
منیب فاروق کی رائے میں آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ اس کی قیادت عمران خان کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے موجودہ دباؤ کا مقابلہ کرتی ہے یا پارٹی کے بعض رہنما نئی سیاسی شناخت کے تحت آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کا بحران بیک وقت قیادت، تنظیم، پارلیمانی حیثیت اور مستقبل کی سیاسی سمت سے جڑا ہوا ہے، جس کے اثرات پارٹی کی آئندہ حکمت عملی میں نمایاں ہو سکتے ہیں۔
