9 مئی کے مفرور ملزمان پناہ گاہ ختم ہونے کے بعد مشکل میں

 

 

 

 

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں جنہوں نے 9 مئی کے مقدمات میں گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں پناہ لے رکھی تھی۔ پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں عہدیداروں، کارکنوں اور بعض ارکان اسمبلی کے لیے اب KP میں قیام برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ بیشتر اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹ گئے ہیں یا واپسی پر غور کر رہے ہیں۔

 

دوسری جانب پی ٹی آئی کے حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی نے پارٹی کی تنظیمی کمزوریوں، ناقص منصوبہ بندی اور قیادت کے درمیان اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں کارکنوں کی کم تعداد، انتظامی ناکامیوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔ یوں ایک طرف پارٹی کو سیاسی اور تنظیمی مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب خیبر پختونخوا میں اس کے لیے دستیاب پناہ گاہیں بھی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی ہیں۔

 

یاد رہے کہ پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں سمیت متعدد ارکان اسمبلی نے مختلف مقدمات میں گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور اور خیبر پختون خوا کے دیگر علاقوں میں قیام کر رکھا تھا۔ تاہم اب صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان میں سے بیشتر اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹ گئے ہیں، جبکہ دیگر رہنما بھی واپسی پر غور کر رہے ہیں۔ سانحہ 9 مئی سمیت مختلف مقدمات میں مطلوب بعض اہم رہنماؤں کے بھی صوبے میں روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں میاں اسلم اقبال، شیخ وقاص اکرم، شبلی فراز اور کنول شوذب کے نام شامل ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، خیبر پختونخوا میں انتظامی تبدیلیوں سے تحریک انصاف کے ان کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں جو اسے گرفتاری سے بچنے کے لیے نسبتاً محفوظ مقام سمجھتے تھے۔

 

بدلتی صورت حال میں اہم سوال یہ ہے کہ صوبے میں انتظامی اختیارات کے استعمال سے سیاسی سرگرمیوں، مطلوب افراد کی قانونی حیثیت اور امن و امان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ادھر تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی پر بھی قیادت سے سخت سوالات کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں چارسدہ میں تقریباً دو ہزار افراد کی شرکت جبکہ مردان میں شرکا کی تعداد صرف ڈیڑھ سو سے دو سو تک رہنے کا ذکر کیا گیا۔ کارکنوں کی توقعات کے مطابق بڑی تعداد میں شرکت نہ ہونے، شرکا کے لیے مناسب انتظامات کی کمی اور واضح حکمت عملی کے فقدان کو مارچ کی ناکامی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا۔ صوابی میں قیام کے دوران خیموں اور دیگر بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی پر بھی تحفظات سامنے آئے، جبکہ سہیل آفریدی کی جانب سے تیاریوں کے بارے میں یقین دہانیوں کے باوجود انتظامی صورت حال توقعات پر پوری نہ اترنے کی شکایات کی گئیں۔

 

ذرائع کے مطابق، اجلاس میں بعض رہنماؤں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ لانگ مارچ کی ناکامی کا بوجھ صرف ارکان اسمبلی پر ڈالنے کے بجائے مرکزی قیادت کی منصوبہ بندی، ذمہ داریوں کی تقسیم اور رابطہ کاری کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کا سوال تھا کہ جب ذمہ داریاں واضح طور پر متعین ہی نہیں کی گئیں تو پھر ناکامی کا احتساب کس بنیاد پر ہوگا؟ اجلاس میں بیرسٹر سیف کو مخصوص ذمہ داریاں سونپنے، سیاسی کمیٹی ختم کرکے فیصلوں کا اختیار پارلیمانی پارٹی کو منتقل کرنے اور لانگ مارچ کے دوران ہونے والی کوتاہیوں اور پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کرنے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔

KP میں گورنر راج، کون سی جماعت ہوئی”اِن”اور کون سی مکمل”آؤٹ”؟

اجلاس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ نے پارٹی کو ایسا نقصان پہنچایا ہے جو شاید 9 مئی کے واقعات کے بعد بھی نہیں ہوا تھا۔ پنجاب میں ایک ہزار سے زائد افراد کو اٹھائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں قیام پارٹی کارکنوں کے لیے ایک سہارا تھا، لیکن صوبے کی بدلتی صورت حال کے باعث اب یہ سہولت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس گفتگو سے واضح ہوا کہ پارٹی کے اندر لانگ مارچ کی ناکامی کو محض شرکا کی کم تعداد کا معاملہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے کارکنوں کے تحفظ، تنظیمی ڈھانچے اور سیاسی حکمت عملی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

 

کور کمیٹی کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم، اس تجویز کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ دونوں رہنماؤں کی تقرری بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کی تھی، اس لیے ان کی تبدیلی کا فیصلہ بھی انہی کو کرنا چاہیے۔ اس معاملے نے پارٹی میں فیصلہ سازی کے اختیارات اور قیادت کے دائرہ کار سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کیا، جبکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اور تنظیمی ذمہ داریوں کی ازسرنو تقسیم جیسی تجاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ لانگ مارچ کے بعد پارٹی کے اندر احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

Back to top button