اسرائیل کی نئی ڈاکٹرائن میں پاکستان پر فوکس کیوں؟

 

 

 

اسرائیل کی نئی ڈاکٹرائن میں پاکستان کو علاقائی طاقتوں کے ایک ایسے اتحاد کا حصہ دکھایا گیا ہے جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صف بندی اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ اس ڈاکٹرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی قیادت خطے میں اپنے اتحادیوں اور مخالف سمجھے جانے والے ممالک کی نئی صف بندی کو اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حصہ بنا رہی ہے۔

 

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے جاری کردہ قومی سلامتی کے نئے نقشے میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل سنی اتحاد کو اسرائیل کے علاقائی مفادات کے مقابل ایک اہم بلاک کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر خزانہ نے  پاکستان اور ترکی کے خلاف یونان سے ساتھ اتحاد مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری قومی سلامتی کی نئی ڈاکٹرائن میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو ’ہیگزاگون الائنس‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل ’سنی ڈائمنڈ الائنس‘ کو ایک الگ علاقائی بلاک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ نقشے میں مصر کو بھی سنی اتحاد کا حصہ جبکہ اردن کو اس کا دوست قرار دیا گیا ہے۔ تاہم واضح رہے کہ مکہ معاہدے میں فی الحال پاکستان، ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں، جبکہ نقشے میں پیش کردہ سنی ڈائمنڈ الائنس ایک وسیع تر علاقائی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔

 

نقشے کے مطابق سوڈان، اریٹیریا، یمن، اردن، شام، قطر، بحرین اور کویت کو سنی ڈائمنڈ الائنس کے لیے دوستانہ ممالک میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ یونان، قبرص، ایتھوپیا اور صومالی لینڈ کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے اتحاد کے دوستوں میں شامل دکھایا گیا ہے۔ آذربائیجان کو دونوں بلاکس کے لیے دوستانہ ملک قرار دیا گیا ہے۔

 

اسرائیلی وزیراعظم کی نئی ڈاکٹرائن میں دفاعی حکمت عملی کے بجائے پیشگی فوجی کارروائیوں، دشمن کو حملے سے روکنے اور اسرائیلی سرحدوں کے قریب بفر زونز قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق حماس کے سات اکتوبر کے حملوں اور غزہ، یمن، لبنان اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد اسرائیل کی قومی سلامتی کی پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے۔ نئی حکمت عملی میں اسلحے اور گولہ بارود کی پیداوار میں خود انحصاری، جدید ٹیکنالوجی میں برتری اور اسرائیل کی علاقائی طاقت کو مستحکم کرنا بھی شامل ہے۔

 

پاکستان اور ترکی کے حوالے سے اسرائیلی وزیر خزانہ سموترچ کا بیان خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یونان کے ساتھ اسرائیلی اتحاد کو پاکستان، ترکی اور دیگر مخالف ممالک کے مقابلے میں مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ سموترچ نے ترکی کی بڑی بحریہ کا حوالہ دیتے ہوئے مشرقی بحیرہ روم میں فوجی برتری اور اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی قیادت کے بعض حلقے پاکستان اور ترکی کے علاقائی کردار کو اپنے سٹریٹجک مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

 

دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی معاونت فراہم کرنے اور اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انڈپینڈنٹ عربیہ کو انٹرویو میں کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت کسی رکن ملک کے خلاف جارحیت کی صورت میں اجتماعی جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور اس کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اگر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت فوجی معاونت کے لیے باضابطہ درخواست کرتی ہے تو پاکستان اس کا جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کرے گا۔

 

سعودی عرب اور مقدس مقامات پر حملوں کے حوالے سے پاکستانی عوام اور قیادت کے غم و غصے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر خزانہ پاکستان اور ترکی کے خلاف اتحاد مضبوط کرنے کی بات کر رہے ہیں، جس سے خطے میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صف بندی کی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

9 مئی کے مفرور ملزمان پناہ گاہ ختم ہونے کے بعد مشکل میں

نیتن یاہو کی نئی قومی سلامتی ڈاکٹرائن کو اسرائیل کے اندر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ان کے سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے اسے کھوکھلا قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ 7 اکتوبر کے حملوں کے تقریباً تین سال بعد اور عام انتخابات سے صرف نو روز قبل یہ پالیسی کیوں جاری کی گئی۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم یائیر لپید نے بھی الزام لگایا کہ یہ دستاویز حقیقی قومی سلامتی کی حکمت عملی پیش کرنے کے بجائے سات اکتوبر کے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ اس تنقید کے باوجود نئی ڈاکٹرائن اور پاکستان و ترکی کے خلاف اتحاد بنانے سے متعلق اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیان نے خطے میں پاکستان کے کردار اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی تعاون کو ایک اہم سٹریٹجک تناظر فراہم کیا ہے۔

Back to top button