امریکہ کو مطلوب پاکستانی کس مخبر کی اطلاع پر پکڑا گیا؟

 

 

 

امریکی حکام کی جانب سے ایک لاکھ امریکی ڈالرز انعام کا اعلان کام کر گیا ہے اور امریکہ کو مطلوب خانیوال کے رہائشی فہیم اکرم کو ایک خفیہ اطلاع پر لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم پر جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کی آن لائن فروخت کے ذریعے 35 ارب پاکستانی روپوں کا فراڈ کرنے اور امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین امریکی ڈالرز سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

 

نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق فہیم اکرم اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com کے نام سے ویب سائٹ چلا رہا تھا، جس کے ذریعے 5.1 ملین سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ اور شپنگ لیبل فروخت کیے گئے۔ ہر لیبل کی قیمت 2 امریکی ڈالرز مقرر تھی، خواہ پارسل کا وزن، سائز یا منزل کچھ بھی ہو۔ امریکی حکام کے مطابق اس طریقے سے 5,200 سے زائد صارفین نے جعلی لیبل خریدے، جس سے امریکی پوسٹل سروس کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 

امریکی ریاست فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں 28 ستمبر 2026 کو فہیم اکرم کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ امریکی حکام نے اس کی ویب سائٹ بند کرکے ڈومین بھی ضبط کر لی اور اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر ایک لاکھ امریکی ڈالرز تک انعام کا اعلان کیا۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے عوام سے اپیل کی تھی کہ اگر کسی کے پاس ملزم کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات ہوں تو متعلقہ حکام کو فراہم کرے، تاہم کسی کو خود اسے پکڑنے کی کوشش نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ بی بی سی اردو کے مطابق خانیوال پولیس اور وزارت داخلہ کو فراہم کی گئی ابتدائی معلومات میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکہ میں قانونی کارروائی شروع ہونے کے ابتدائی مرحلے میں فہیم اکرم اور اسکا بھائی پاکستان چھوڑ گئے تھے، تاہم ان کے امریکہ سے روانہ ہونے اور پاکستان پہنچنے کی درست تاریخ نہیں مل سکی۔

 

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق فہیم اکرم 2025 میں سعودی عرب گیا تھا، جسکے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ریکارڈ میں اس کے کسی اور بیرون ملک سفر کا حوالہ نہیں ملا۔ ان معلومات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ امریکہ سے براہ راست پاکستان آیا تھا یا کسی تیسرے ملک کے ذریعے پہنچا تھا۔ فہیم اکرم کی گرفتاری کے لیے این سی سی آئی اے نے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ ادارے کے مطابق ان ٹیموں نے مختلف مقامات پر 35 چھاپے مارے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔ تفتیشی حکام نے 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا۔ دس روز تک جاری رہنے والے خصوصی لوکیٹر آپریشن کے نتیجے میں ملزم کا سراغ ملا اور اسے لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس خفیہ اطلاع کے ذریعے ملزم تک پہنچنے کی تفصیل سامنے نہیں لائی گئی۔

 

این سی سی آئی اے کے مطابق فراڈ کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے، جن میں ملزم کے 7، اس کے بھائی کے 5، اہلیہ کے 2، جبکہ بہن اور خالہ کے ایک، ایک اکاؤنٹ شامل تھے۔ ادارے کے مطابق ملزم سے جعلی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت، مالی لین دین اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق فہیم اکرم خانیوال کے علاقے پیپلز کالونی کا رہائشی ہے اور اس نے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ تین سے چار سال سے آن لائن کاروبار کر رہا تھا، جبکہ ڈاک ٹکٹوں کی فروخت تقریباً دو سال قبل شروع کی تھی۔ اس کا بھائی بھی کاروبار میں شریک تھا اور اس کے والد پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ فہیم اکرم پہلے اپنے والد کے ساتھ پراپرٹی کے کاروبار میں کام کرتا تھا، تاہم بعد میں اس نے الگ کاروبار شروع کر لیا تھا۔

احتجاجی سیاست نے PTI کا دھڑن تختہ کیسے کیا؟

امریکی عدالتی دستاویزات کے مطابق استغاثہ کا الزام ہے کہ فہیم اکرم اور اس کے ساتھیوں نے جعلی پوسٹل لیبلز فروخت کرکے صارفین کو اصل ڈاک فیس ادا کیے بغیر پارسل بھیجنے کا موقع فراہم کیا۔ واٹس ایپ کے ذریعے صارفین سے رابطہ کیا جاتا اور ادائیگیاں وصول کرنے کے لیے مختلف مالیاتی ذرائع استعمال کیے جاتے تھے۔ دستاویزات میں کرپٹو کرنسی والیٹ اور پاکستان میں موجود ایک بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگیوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔ امریکی استغاثہ نے فہیم اکرم پر امریکہ کو دھوکہ دینے کی سازش، جعلی ڈاک لیبلز بنانے اور فروخت کرنے، اور الیکٹرانک ذرائع سے فراڈ کے متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

Back to top button