جان ہے تو جہان ہے، گاڑی چوری ہو تو پیچھا مت کیجئے

فیصل آباد میں معروف بزنس مین ریحان اشرف کے بہیمانہ قتل کے بعد ہوٹلز، ریسٹورینٹس اور شاپنگ مالز میں گاڑیاں پارک کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ویلے پارکنگ سروس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ اب گاڑی چوری ہونے کے خدشے کے ساتھ شہریوں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو گے ہیں۔ یاد ریے کہ چناب کلب میں ویلے کے حوالے کی گئی گاڑی غائب ہونے پر ٹریکر کے ذریعے اسکا پیچھا کرنے والے ریحان اشرف کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق 17 اکتوبر کی رات ریحان اشرف اپنے بھائی اور کزنز کے ہمراہ ڈنر کے لیے چناب کلب پہنچے اور اپنی گاڑی ویلے کے حوالے کی۔ کچھ ہی دیر بعد گاڑی میں نصب ٹریکر سے اطلاع موصول ہوئی کہ گاڑی اپنی پارکنگ کی جگہ سے حرکت کر چکی ہے۔ ریحان اشرف جب پارکنگ میں پہنچے تو وہاں نہ ان کی گاڑی موجود تھی اور نہ ہی چابیاں وصول کرنے والا اٹینڈنٹ۔ اس کے بعد انہوں نے ٹریکر کمپنی سے گاڑی کی براہِ راست لوکیشن حاصل کی اور اس کا پیچھا کرنے روانہ ہو گئے۔ایف آئی آر میں درج تفصیل کے مطابق گاڑی کا پیچھا کرنے کے دوران ویلے نے ریحان اشرف کو گولی مار دی، جو ان کی گردن پر لگی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ یوں اپنی گاڑی کا سراغ لگانے اور اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش ایک المناک واقعے پر ختم ہوئی۔
پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ملزم کے کردار اور قتل کے محرکات کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ تاہم، یہ واقعہ سب کے لیے ایک سبق ہے کہ گاڑی چوری ہونے کی صورت میں مالک کا خود اسے تلاش کرنے کی کوشش کرنا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ویلے پارکنگ کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق ملازمین کی بھرتی کے دوران ڈرائیونگ لائسنس، پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور دیگر کوائف کی جانچ پڑتال ضروری ہوتی ہے، جبکہ کمپنی کی رجسٹریشن بھی اہم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود دستاویزات کی موجودگی کو مکمل تحفظ کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حکام کے مطابق ہوٹلوں، ریسٹورینٹس اور شاپنگ مالز میں ویلے پارکنگ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے ضلعی انتظامیہ سے لائسنس حاصل کرنا اور ملازمین کے کوائف جمع کرانا ضروری ہے، جبکہ کوئی شخص ذاتی حیثیت میں اس سروس کی فراہمی کا مجاز نہیں۔ اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ متعلقہ ادارے کمپنیوں کے لائسنس، ملازمین کے ریکارڈ اور حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ جانچ کس حد تک کرتے ہیں۔ قواعد و ضوابط کی موجودگی اسی وقت شہریوں کے تحفظ میں مددگار ہو سکتی ہے جب ان پر مؤثر عمل درآمد ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے۔
پولیس حکام کے مطابق ویلے پارکنگ کو محفوظ بنانے کے لیے گاڑی وصول کرتے وقت مالک کو باقاعدہ رسید یا شناختی پرچی جاری کرنا، ملازم کی نمایاں شناخت یقینی بنانا، چابیوں کی محفوظ تحویل اور گاڑیوں کی آمد و رفت کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔ پارکنگ کے مقامات پر نگرانی کے کیمرے اور کسی ہنگامی صورتِ حال میں فوری رابطے کا مؤثر نظام بھی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہوٹلز اور ریسٹورینٹس کو واضح کرنا چاہیے کہ گاڑی چوری ہونے، نقصان پہنچنے یا کسی مجرمانہ واقعے کی صورت میں صارف کس سے رابطہ کرے گا اور متعلقہ ادارے کی ذمہ داری کیا ہوگی۔
ریحان اشرف کا قتل ویلے پارکنگ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ان خدمات سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری مراکز کے لیے حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔ اس واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور کمپنیوں کے حفاظتی نظام کی مؤثر نگرانی ضروری ہے تاکہ شہریوں کو گاڑی حوالے کرتے وقت یہ یقین ہو کہ ان کی ملکیت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ سہولت فراہم کرنے والے اداروں کی ذمہ داری محض گاڑی پارک کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ صارفین کے تحفظ اور کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر انتظامات کرنا لازم ہے۔
