پاک ایران سرحدی تجارت کی معطلی سے اربوں کا نقصان

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت کی معطلی نے دونوں ممالک کے تاجروں کے اربوں روپے کے کاروبار کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اس کے علاوہ بلوچستان کی اہم تجارتی گزرگاہوں پر ہزاروں مال بردار گاڑیاں اور کنٹینرز پھنس جانے سے چاول، پھلوں، سبزیوں، ایل پی جی اور دیگر اشیا کی ترسیل سخت متاثر ہو رہی ہے۔ اس بندش سے پاکستانی برآمد کنندگان کا سرمایہ اور جلد خراب ہونے والی اشیا ضائع ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ایران سے سامان منگوانے والے تاجروں کو بھی مالی نقصان کا سامنا ہے۔

پاک ایران سرحدی تجارت کی معطلی کی فوری وجوہات میں سکیورٹی اور انتظامی مسائل، درآمدی سہولت کا خاتمہ اور ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے تقاضے شامل ہیں، تاہم اس بحران کا مستقل حل دونوں ممالک کے درمیان واضح پالیسی اور سرحدی نظام کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے تاجروں کو ایران سے نئی خریداری اور مال کی بکنگ روکنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ درآمدی سہولت کی منسوخی کے بعد کسٹمز کلیئرنس اور ادائیگیوں کے معاملات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ کوئٹہ چیمبر کے مطابق واضح حکومتی پالیسی سامنے آنے تک نئی تجارت شروع کرنا تاجروں کے لیے مالی خطرات بڑھا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان ان کاروباری افراد کو ہو سکتا ہے جن کا سرمایہ سرحد پر رکے سامان، ٹرانسپورٹ اور پیشگی ادائیگیوں میں پھنسا ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے اس بندش کا ایک اہم پہلو ایل پی جی کی فراہمی ہے۔ گبد ریمدان سرحدی راستے سے روزانہ چار ہزار ٹن سے زیادہ ایل پی جی درآمد ہوتا یے، اس لیے تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے تک معطل رہنے سے کراچی اور دوسرے شہروں میں رسد متاثر ہونے اور قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان سے ایران جانے والے چاول، پھلوں اور دیگر اشیا کی برآمدات رکنے سے پاکستانی برآمد کنندگان کو زرمبادلہ اور کاروباری آمدن کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مالی سال 2023-24 میں دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا تھا۔

پاک ایران تجارت کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور ایران کے حکام سکیورٹی انتظامات، کسٹمز کلیئرنس، درآمدی دستاویزات اور مالی لین دین کے معاملات پر فوری اتفاق کریں۔ پاکستان کی وزارت تجارت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ الیکٹرانک امپورٹ فارم سے استثنیٰ کی منسوخی کے بعد ایران سے قانونی تجارت کن شرائط کے تحت جاری رہ سکے گی، جبکہ دونوں ممالک کو خراب ہونے والی اشیا اور ضروری توانائی کی ترسیل کے لیے فوری عبوری انتظامات بھی کرنے چاہییں۔

یاد 4یے کہ پاکستان اور ایران اگست میں مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں دوطرفہ تجارت کو سالانہ 10 ارب ڈالر تک لے جانے اور کسٹمز اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ اب اس عزم کو عملی شکل دینے کے لیے سرحدی گزرگاہوں کی محفوظ بحالی، اسمگلنگ کی روک تھام اور قانونی تجارت میں سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔

Back to top button