عدالتی تقرریوں پرمفاہمت، PPP اور نون لیگ ایک پیج پر کیسے آئی؟

اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی مفاہمت کے مرکز میں آگیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان عدالتی عہدوں پر اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی تقرریوں کے حوالے سے اختلافات سامنے آنے کے بعد اب نئی مفاہمت کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ کی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں شمولیت کو اسی تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مفاہمت کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ بعض امیدواروں کی نامزدگیوں پر دوبارہ غور کیا جاسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ کو جوڈیشل کمیشن کا رکن فاروق ایچ نائیک اور شیخ آفتاب احمد کے استعفوں کے بعد مقرر کیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں کی نمائندگی کریں گے، جبکہ رانا ثناء اللہ سینیٹ کی نمائندگی کریں گے۔ ان تقرریوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے پیپلز پارٹی کے اندر یہ بے چینی پائی جاتی تھی کہ اس کے حمایت یافتہ متعدد امیدوار اعلیٰ عدالتی عہدوں پر تقرریوں کے لیے کمیشن کی منظوری حاصل نہیں کرسکے۔
اس پیش رفت سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی اتحاد کے دونوں بڑے شراکت دار عدالتی تقرریوں کے معاملے پر کسی مشترکہ طریقۂ کار پر متفق ہوگئے ہیں؟ اگر پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں پر دوبارہ غور کیا جاتا ہے تو اسے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کی ایک اہم پیش رفت سمجھا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ امیدواروں پر دوبارہ غور کیے جانے کی اطلاع اور ان کی تقرری کی حتمی منظوری دو الگ مراحل ہیں۔
عدالتی تقرریاں محض اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کا معاملہ نہیں، بلکہ ان کا تعلق عدلیہ کی خودمختاری، تقرریوں کے شفاف طریقۂ کار اور اداروں پر عوامی اعتماد سے بھی ہے۔ اس لیے اہم سوال یہ نہیں کہ کس جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار کو موقع ملتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ نامزدگیوں اور منظوریوں میں قانونی تقاضوں، اہلیت اور میرٹ کو کس حد تک مقدم رکھا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ کی جوڈیشل کمیشن میں شمولیت سے دونوں جماعتوں کو عدالتی تقرریوں کے عمل میں نمائندگی مل گئی ہے، لیکن اس کے حقیقی اثرات آئندہ فیصلوں سے ہی واضح ہوں گے۔ اگر نئی مفاہمت کے نتیجے میں پہلے زیرِ غور رہنے والے امیدواروں کی نامزدگیوں پر نظرثانی ہوتی ہے تو یہ حکومتی اتحاد کے اندر اختلافات کم کرنے کی کوشش ہوگی۔ تاہم اس عمل کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فیصلے سیاسی توازن کے بجائے شفافیت، اہلیت اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں یا نہیں۔
