دنیا بھر میں کینسر کا مرض وباکی طرح کیوں پھیلنے لگا؟

کینسر دنیا بھر میں انسانی زندگیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جارہا ہے۔ 2024ء کے عالمی تخمینوں کے مطابق دنیا میں تقریباً 2 کروڑ 6 لاکھ افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی، جبکہ 98 لاکھ افراد اس مہلک مرض کے باعث زندگی سے محروم ہوگئے۔ اندازہ ہے کہ ہر 5 میں سے 1 شخص کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں بھی صورت حال تشویش ناک ہے، جہاں سالانہ تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار 308 نئے کیسز اور 1 لاکھ 19 ہزار 742 اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ملک میں کینسر کے مکمل قومی ریکارڈ، بروقت تشخیص، جدید علاج تک رسائی اور بھاری طبی اخراجات کے مسائل اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

کینسر کسی ایک وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری نہیں بلکہ مختلف اقسام کے سرطان کا مجموعہ ہے، جن کے اسباب اور خطرات الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ تمباکو نوشی، موٹاپا، غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، فضائی آلودگی، الکحل، بعض کیمیائی مادے، تابکاری اور مخصوص دائمی انفیکشنز کینسر کے اہم خطراتی عوامل میں شامل ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ خلیوں میں جینیاتی تبدیلیاں اور نقصانات جمع ہونے سے بھی سرطان کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم ہر مریض میں کینسر کی وجہ یکساں نہیں ہوتی اور کسی ایک عامل کی موجودگی لازماً اس مرض کا سبب نہیں بنتی۔

غذائی عادات کے حوالے سے پراسیسڈ گوشت، زیادہ نمک اور شکر والی خوراک اور غیر متوازن غذا پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہاٹ ڈاگ اور دیگر پراسیسڈ گوشت کو سرطان پیدا کرنے والے عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ روزانہ 50 گرام پراسیسڈ گوشت کھانے کا تعلق بڑی آنت کے سرطان کے خطرے میں تقریباً 18 فیصد اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ سرخ گوشت کے بارے میں بھی خدشات موجود ہیں، تاہم اس کے شواہد پراسیسڈ گوشت کے مقابلے میں کم مضبوط ہیں۔ اسی طرح پیکٹ والے چپس، میٹھے سیریلز، فوری تیار ہونے والے نوڈلز، سافٹ ڈرنکس اور بعض تیار شدہ غذائیں انتہائی پراسیس شدہ خوراک میں شامل ہوسکتی ہیں۔ ان غذاؤں کے زیادہ استعمال کے بارے میں صحت کے خطرات کے شواہد موجود ہیں، لیکن ہر ایسی غذا کو براہ راست کینسر کا سبب قرار دینا درست نہیں۔

تمباکو نوشی پھیپھڑوں سمیت کئی اقسام کے کینسر کا اہم قابلِ تدارک سبب ہے، جبکہ موٹاپا غذائی نالی، بڑی آنت، چھاتی، رحم اور گردوں سمیت متعدد سرطانوں کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ فضائی آلودگی، خصوصاً باریک ذرات، پھیپھڑوں کے سرطان کا اہم ماحولیاتی خطرہ ہیں۔ انسانی پیپیلوما وائرس اور ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے انفیکشنز بھی مخصوص اقسام کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر تقریباً 10 فیصد کینسر کیسز کو انفیکشنز سے منسلک کیا جاتا ہے۔ صحت مند خوراک، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، تمباکو سے اجتناب، مناسب حفاظتی ٹیکوں اور جہاں دستیاب ہو بروقت جانچ کے ذریعے کینسر کے بعض خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔

عالمی سطح پر پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا سرطان رہا۔ 2024ء میں اس کے تقریباً 26 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے، جو دنیا کے تمام نئے کیسز کا 12.8 فیصد تھے۔ خواتین میں چھاتی کا کینسر 11.8 فیصد، بڑی آنت اور مقعد کا کینسر 9.9 فیصد، پروسٹیٹ کینسر 7.5 فیصد اور معدے کا کینسر 4.8 فیصد نئے کیسز کے ساتھ نمایاں رہے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ کینسر ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن اس کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت ہر ملک میں یکساں نہیں۔

پاکستان میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ عام سرطان ہے۔ 2024ء کے تخمینوں کے مطابق اس کے 43 ہزار 721 نئے کیسز سامنے آئے۔ اس کے بعد بڑی آنت اور مقعد کے 10 ہزار 544، خون کے نظام کے ایک سرطان کے 10 ہزار 66، پروسٹیٹ کے 9 ہزار 901 اور ہونٹ و منہ کے اندرونی حصے کے سرطان کے 9 ہزار 474 نئے کیسز کا تخمینہ لگایا گیا۔ مثانے کے 8 ہزار 419، پھیپھڑوں کے 8 ہزار 151، دماغ اور اعصابی نظام کے 8 ہزار 3، جگر کے 6 ہزار 952 اور لیوکیمیا کے 5 ہزار 736 نئے کیسز بھی تخمینوں میں شامل ہیں۔

پاکستان میں کینسر کے اصل بوجھ کا درست تعین کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ جامع قومی رجسٹری کا فقدان ہے۔ ایک تحقیقی جائزے میں ملک بھر میں 17 کینسر رجسٹریوں کی نشاندہی کی گئی، لیکن 129 شہروں میں سے صرف 19 شہر کم از کم ایک رجسٹری کو اعدادوشمار فراہم کررہے تھے۔ ایک قومی سروے کے مطابق صرف 52.3 فیصد ماہرین نے بتایا کہ ان کے مریض باقاعدگی سے کینسر کے ریکارڈ میں درج کیے جاتے ہیں، جبکہ 29.7 فیصد نے کہا کہ ان کے ادارے ایسے ریکارڈ میں حصہ نہیں لیتے۔ جب مریضوں کا مکمل اور مربوط ڈیٹا دستیاب نہ ہو تو مرض کے پھیلاؤ، علاج کے نتائج اور وسائل کی ضروریات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔

تشخیص اور علاج کی جدید سہولتوں تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کینسر کی جینیاتی ساخت جانچنے والے جدید ٹیسٹوں کے بارے میں ماہرین کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے مریض ان کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ ایک سروے میں 55.9 فیصد ماہرین نے بتایا کہ ان کے نصف سے بھی کم مریض یہ ٹیسٹ کرانے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں۔ نتائج حاصل کرنے میں بھی وقت لگ سکتا ہے: 67.6 فیصد ماہرین کے مطابق ٹیسٹوں کے نتائج آنے میں 7 سے 14 دن لگتے ہیں، جبکہ 12.6 فیصد نے 14 دن سے زیادہ وقت بتایا۔ یہ اعداد جدید تشخیص کی دستیابی کے ساتھ اس کی استطاعت اور بروقت فراہمی کی اہمیت بھی واضح کرتے ہیں۔

پاکستان میں کینسر کے علاج کے نتائج کا بہتر کارکردگی والے ممالک سے موازنہ بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک تحقیق میں معدے کے کینسر کے لیے 0.60، کپوسی سارکوما کے لیے 0.58، جلد کے میلانوما کے لیے 0.50، ہونٹ و منہ کے اندرونی حصے کے سرطان کے لیے 0.49 اور چھاتی کے سرطان کے لیے 0.41 کا فرق درج کیا گیا۔ یہ پیمانہ پاکستان اور بہتر نتائج رکھنے والے ممالک کے درمیان علاج کے نتائج میں فرق ظاہر کرتا ہے؛ اسے مریضوں کی تعداد یا بیماری کے پھیلاؤ کا پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

جنوبی ایشیا میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کو کینسر کے بڑے بوجھ کا سامنا ہے، لیکن قومی ریکارڈ، اسکریننگ، علاج کی سہولتوں اور مالی تحفظ کے نظام میں فرق موجود ہے۔ فراہم کردہ تخمینوں کے مطابق بھارت میں سالانہ تقریباً 15 لاکھ 70 ہزار نئے کیسز اور 8 لاکھ 69 ہزار سے 9 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ پاکستان میں نئے کیسز تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار اور اموات تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں نئے کیسز کا تخمینہ 1 لاکھ 67 ہزار سے 1 لاکھ 87 ہزار اور اموات 1 لاکھ 17 ہزار سے 1 لاکھ 39 ہزار کے درمیان ہے۔ تینوں ممالک میں اعدادوشمار کے طریقۂ جمع اور قومی رجسٹریوں کی تکمیل میں فرق کے باعث ان تخمینوں کا موازنہ احتیاط سے کرنا ضروری ہے۔

بھارت میں کینسر کے اعدادوشمار جمع کرنے، اسکریننگ اور علاج کا نظام نسبتاً وسیع ہے، تاہم وہاں بھی دیہی علاقوں میں سہولتوں کی کمی اور علاج کے نجی اخراجات بڑے مسائل ہیں۔ پاکستان میں جوہری توانائی کمیشن کے 19 کینسر اسپتال اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن علاج کی سہولتیں ملک کے تمام علاقوں میں یکساں دستیاب نہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی ریڈیوتھراپی کی محدود سہولتوں اور مریضوں کے انتظار کی طویل مدت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یوں تینوں ممالک کے لیے صرف اسپتالوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں، بلکہ تشخیص سے علاج تک مکمل اور قابلِ استطاعت نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے۔

کینسر کے علاج کا مالی بوجھ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستان میں علاج کے اخراجات کا بڑا حصہ مریض اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں، جبکہ ایک قومی سروے میں 94.6 فیصد کینسر ماہرین نے مالی مشکلات کو علاج تک رسائی کی بڑی رکاوٹوں میں شمار کیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی مریضوں کے خاندانوں کو بھاری طبی اخراجات کا سامنا ہے۔ مہنگے ٹیسٹ، ادویات، آپریشن، شعاعی علاج اور بار بار اسپتال جانے کے اخراجات کئی خاندانوں کو مالی دباؤ میں مبتلا کرسکتے ہیں، جس سے علاج میں تاخیر یا تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو قومی کینسر رجسٹری کو مؤثر بنانا، بروقت تشخیص اور مناسب جانچ کے پروگراموں کو وسعت دینا، علاج کی سہولتوں کو بڑے شہروں سے باہر بھی پہنچانا اور کم آمدنی والے مریضوں کے لیے مالی تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ عوامی سطح پر تمباکو سے اجتناب، صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی، حفاظتی ٹیکوں اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی معائنے کی اہمیت اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ کینسر کے ہر کیس کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مؤثر روک تھام، بروقت تشخیص اور معیاری علاج سے بہت سے مریضوں کے لیے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اصل چیلنج صرف بیماری کے اعدادوشمار نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ مریض کو درست تشخیص اور مؤثر علاج اس کی مالی حیثیت اور رہائش کے مقام سے قطع نظر میسر ہو۔

Back to top button