خیبر پختونخوا میں اشتعال انگیزی پرویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز خیبر پختونخوا نے پولیس کو خصوصی ہدایات ایک ایسے وقت میں جاری کی ہیں جب وفاق صوبے کے کچھ اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کی تیاری کررہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وفاق کے خلاف اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق انہیں وفاق کی جانب سے پہلے ہی احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایات مل چکی تھیں۔
پولیس کو جاری کردہ تحریری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں ملوث عناصر سے قانون کے مطابق انتہائی سختی سے نمٹا جائےگا۔ کسی بھی ہنگامہ آرائی یا احتجاج کے دوران سرکاری تنصیبات، عمارتوں اور املاک کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہدایات میں لکھا ہے کہ عوام کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع، پُرتشدد سرگرمی یا اشتعال انگیزی کا حصہ بننے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے، سیکیورٹی فورسز یا عمارتوں پر حملے کرنے یا شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ شہری پُرامن رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ پولیس سٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ احتجاجی مظاہروں اور کارروائیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی تاکہ بعد میں ضروری قانونی کارروائی میں مدد مل سکے۔
