وفاقی کابینہ کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی منظوری دیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ صوبے کے انتظامی اور سیکیورٹی معاملات چلانے کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر خیبرپختونخوا صوبے کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیں گے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت سابق قبائلی علاقوں کے 8 اضلاع سمیت ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے ان علاقوں کے انتظامی، ترقیاتی اور سیکیورٹی امور چلائے جائیں گے۔
مجوزہ سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کیے جانے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سیکریٹریٹ کا مرکزی دفتر سابق قبائلی علاقوں کے کسی ایک ضلع میں قائم کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اس انتظامی نظام کو چلانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی فنڈز بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ ان تجاویز میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت پورے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور بدامنی سے متاثرہ 12 اضلاع کے انتظامی معاملات کو الگ طریقے سے چلانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظامی منصوبے کے تحت سابق فاٹا کے 8 اضلاع کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کرک اور کوہاٹ کو وفاقی نگرانی میں دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ان علاقوں میں امن و امان کی بحالی اور انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی سفارشات کی روشنی میں آئینی و قانونی اقدامات کی منظوری دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق یہ پیش رفت صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم مجوزہ اقدامات کے قانونی طریقۂ کار، حتمی نفاذ اور انتظامی اختیارات کی تفصیلات کے لیے باضابطہ سرکاری اعلامیے کی اہمیت برقرار ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبرپختونخوا کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی میں اضافے، سیکیورٹی اداروں کو درپیش چیلنجز اور صوبے میں انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبے کے مستقبل سے متعلق اہم آئینی و انتظامی اقدامات پر مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر مملکت طلال چوہدری، رانا ثناء اللہ، سالک حسین، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر وفاقی وزرا شریک ہوئے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور صوبائی انتظامی ڈھانچے سے متعلق معاملات پر اہم مشاورت کی گئی، جبکہ پولیس اور حساس اداروں کی خصوصی سیکیورٹی رپورٹس بھی وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں۔

Back to top button