کیا اسٹیبلشمنٹ اپنا بنایا ہواجن بوتل میں بند کر لے گی؟

عمران خان نے اپنی جارحانہ سیاست سے اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کو تقریباً دیوار سے لگا دیا ہے۔ ایسے میں اب انکی مدمقابل صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ بھائی لوگوں نے عسکری بوتل سے جس طرح عمران خان کا جن نکالا تھا کیا اسی طرح اسے واپس بوتل میں بند کیا جا سکے گا یا نہیں؟
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ طاقت کی اپنی زبان ہے جس کے الفاظ، انداز اور لہجہ قطعی مختلف۔ طاقت کے لیے نہ اقتدار چاہیے اور نہ ہی عنانِ مملکت۔ البتہ طاقت کے لیے اختیار ضروری ہے۔
ہم جس دور میں موجود ہیں اور جس وقت میں کھڑے ہیں اسکو ناپنے کا آلہ ایک ہی رُخ پر ہے اور طاقت کی لگامیں منہ زور گھوڑے کے سپرد۔عمران اس وقت مقبولیت کے بام عروج پر ہیں اور اگر نہیں بھی تو محسوس کیوں ہو رہا ہے کہ مدمقابل میدان چھوڑ رہے ہیں۔ عمران کی سیاست نے سیاسی جماعتوں کو تقریباً یا تو دیوار سے لگا دیا ہے یا کم از کم اُنھیں لاجواب ضرور کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی مدمقابل اب صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے اور اس کا احساس اور اندازہ طاقتور حلقوں کو بخوبی ہو چُکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور بیانیے یا تو غیر متعلقہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں یا بے اثر۔۔۔ اُن کا حامی پیروکار اور خود عمران خان دیوتا جیسا روپ اختیار کر رہے ہیں۔
بقول عاصمہ شیرازی، اس کی وجوہات عمران خان کا بیانیہ ہے یا کچھ اور۔۔۔ بہر حال عمران اقتدار سے باہر بھی مقتدر ہیں اور اختیار نہ ہوتے ہوئے بھی بااختیار۔ وہ طاقت کا مرکز بنتے چلے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ رویہ مزید مطلق العنانیت کی جانب نہ لے جائے۔ یعنی بھیڑوں نے چیتے مار ڈالے، ظالم بھیڑیے کا بُرا حال ہے، خرگوش شیروں پر سواری کر کے دھمال ڈالتے ہوئے ناچ رہے ہیں اور چوہے خوش ہو کر بلی کے کان کاٹ رہے ہیں یعنی ہر بات اُلٹی ہو رہی ہے۔
آج بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کل تک اسٹیبلشمنٹ کے ایک صفحے پر دھمال ڈالنے والے آج دانتوں سے صفحے اُدھیڑ رہے ہیں جبکہ طاقت کی راہداریوں میں پڑاؤ ڈالنے والے، زور آوروں کا راستہ روک رہے ہیں۔ مقبولیت کو سند بنا کر آئین اور قانون کے معنی بدلے جا رہے ہیں جبکہ آزادی اظہار کی آڑ میں دوسروں کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عاصمہ شیرازی یاد دلاتی ہیں کہ آزادی کی حد دوسرے کی ناک سے پہلے ختم ہو جاتی ہے جبکہ یہاں مقبولیت کے لائسنس کے ساتھ ناک کاٹ کر ہاتھ میں رکھی جا رہی ہے۔ اہل علم کو اس پر بحث ضرور کرنی چاہیے کہ دھونس، زبردستی کو آزادی کا جواز فراہم کیا جائے یا نہیں؟ یاد رہے کہ نظام کو کسی غیر آئینی حادثے سے بچانے کے لیے فقط آئین کا ہی راستہ لیا جانا چاہیے۔ یہ سب کیوں ہوا اور کیسے ہوا اس پر بہت بار لکھا جا چُکا ہے مگر اب ہو گا کیا۔ کیونکہ عمران خان اب خود کو قانون، آئین، پارلیمنٹ، عدالت اور حتیٰ کہ اسٹیبلشمنٹ بھی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ باوجود اس کے کہ توشہ خانہ یا ممنوعہ فنڈنگ کیس اُن کی صداقت اور امانت پر کئی سوال اُٹھا چُکے ہیں، وہ خود کو نہ صرف قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں بلکہ عوامی مقبولیت کے ہتھیار کو انتشار کے لیے استعمال کرنے کا ہُنر بھی رکھتے ہیں اور اس کا طریقہ خود طاقت کے ایوانوں سے ہی اُنھیں سکھایا گیا ہے۔’
عمران کی حکومت کو الیکشن کا اعلان نہ کرنے پر دھمکی
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ایسے میں یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا طاقت ہی طاقت سے بات کر سکتی ہے؟ عمران خان اس فارمولے پر عمل پیرا ہیں یہاں تک کہ طاقت کا مرکز اُن کے قدموں میں گر جائے۔ جبکہ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ایسا ہونے نہیں دے گی۔ اس سے پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ خان جیسے کئی طاقتوروں کو دہشت کا شکار بنا چُکی ہے۔ انکا ہتھیار صرف دھونس اور ہٹ دھرمی ہے جس کا علاج فقط قانون اور آئین کے دائرے میں کارروائی سے ہی ممکن ہے۔ عسکری بوتل سے جن جیسے نکالا گیا تھا اب اُسی طرح جن کو واپس بوتل میں بند کیا جا رہا ہے۔ نظام کو ریورس گیئر لگایا گیا ہے لیکن نظریے اور بیانیے سے عاری سیاسی جماعتیں عوام سے دور بلکہ بہت دور ہیں۔ عوام کو انگیج کرنے کے لیے عمران کے نہ تو کوئی مدمقابل ہے اور نہ ہی کوئی دلچسپی رکھتا نظر آتا ہے۔ نوجوان سیاسی قیادت خود کو عوام سے منسلک نہیں کر پا رہی جبکہ بڑھتی مہنگائی عوام کو نظام سے متنفر کر رہی ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعتوں کو عوام سے قریب کرنا ہو گا تو دوسری جانب نظریاتی سیاست کو فروغ دینا ہو گا ورنہ انتخابی میدان میں یکطرفہ مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔
