محمود اچکزئی کا قائد حزب اختلاف کے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار

محمود خان اچکزئی نے قائد حزب اختلاف کے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی کی کور کی کمیٹی کے مبینہ مطالبے پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر اڈیالہ جیل میں موجود وہ شخص،جس نے مجھے قائد حزب اختلاف نامزد کیاتھا،مجھ سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرےگا تو میں مستعفی ہوجاؤں گا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کی ناکامی اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر پارٹی قیادت کے کردار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اجلاس میں بعض رہنماؤں نے لانگ مارچ کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر عائد کی تھی، جب کہ اجلاس میں شریک بیشتر ارکان نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار محمود خان اچکزئی کو ٹھہرایا تھا۔
مزاحمتی سیاست نے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا: شوکت یوسف زئی
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی کا کہناہے کہ مزاحمتی سیاست نے پارٹی کو نقصان پہنچایا، اب عملی سیاست،مذاکرات اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
سینئر رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبر کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے اب تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، کارکن تذبذب کا شکار ہیں اور 11 اکتوبر کو بھی قیادت کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کرتےرہے، تاہم جن رہنماؤں نے پلان دیناتھا،وہ سامنے نہیں آئے۔
