خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ برسوں نہیں، مہینوں میں ہوگا : رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کےلیے اب برسوں کا وقت نہیں لگے گا بلکہ یہ کام ہفتوں اور مہینوں میں مکمل کیا جائےگا۔
مرکزی رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے،جس کے خاتمے کےلیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بےمثال قربانیاں دے رہے ہیں۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے اب برسوں کا وقت نہیں لگےگا بلکہ یہ کام ہفتوں اور مہینوں میں مکمل کیا جائےگا، ان شاءاللہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا خاتمہ 6 ماہ کے اندر کردیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں ابھی معدنی وسائل کی نقشہ بندی تک نہیں ہوئی اور یہ بھی مکمل طور پر معلوم نہیں کہ وہاں کون سی معدنیات موجود ہیں اور کون سی نہیں،پاکستان کے پاس معدنیات نکالنے کےلیے درکار وسائل اور ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں ہے۔
بلوں میں چھپے بیٹھے یوتھیے اب KPKسے واپس کیوں بھاگنے لگے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاستدان ہیں اور انہوں نے پی ڈی ایم میں اہم سیاسی کردار ادا کیا ہے،سیاست میں ہر کسی کا اپنا مؤقف ہوتا ہے اور گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کا بھی اپنا مؤقف ہے،مولانا فضل الرحمان کو اپنا مؤقف پیش کرنےکا مکمل حق حاصل ہے،لیکن ہمیں بھی ان کے مؤقف سے اختلاف کرنے کا حق ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کچھ جوش و جذبے میں بات کی، جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کی بات کا احترام کے ساتھ جواب دیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے، کیوں کہ اس وقت خیبرپختونخوا کا بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کےلیے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی قربانیوں سے بڑھ کر کوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کےخلاف جنگ میں ساتھ دینا چاہیےاور اس معاملے کو کسی دوسرے مسئلے سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔

One Comment