ایک برس سے غائب سعد رضوی اور انس رضوی کہاں ہیں؟

تحریک لبیک کے بانی سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادوں سعد رضوی اور انس رضوی کی پراسرار گمشدگی کو ایک سال مکمل ہو چکا، لیکن آج تک یہ پتہ نہیں چل پایا کہ ان دونوں بھائیوں کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟ اس حوالے سے حکومت اور ایجنسیاں بھی خاموش ہیں جبکہ تحریک لبیک کی جانب سے بھی اپنے لیڈرز کی بازیابی کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا جو کہ عجیب بات ہے۔
دونوں بھائیوں کے حوالے سے اس وقت کئی سوالات کیے جا رہے ہیں۔ کیا وہ زیرِ زمین ہیں، آزاد کشمیر میں روپوش ہیں، ریاستی تحویل میں ہیں یا کسی اور مقام پر موجود ہیں؟ اگر وہ زندہ اور آزاد ہیں تو ایک سال میں قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گرفتار کیوں نہیں کر سکے، سوال یہ بھی ہے کہ اگر دونوں گرفتار ہیں تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا، اور اگر یہ کسی خفیہ ادارے کی تحویل میں ہیں تو حکومت اس کی تصدیق کیوں نہیں کرتی؟ یاد رہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی اس وقت منظر سے غائب ہوئے جب تحریک لبیک اور ریاست کے مابین اکتوبر 2025 میں ایک مرتبہ پھر براہ راست تصادم ہوا۔ یاد رہے کہ آج سے ایک برس پہلے تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کے دوران مریدکے میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں اطراف سے جانی نقصان بھی ہوا۔ اسی تصادم کے بعد سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور دیگر مرکزی رہنما منظر نامے سے غائب ہوگئے اور آج تک سامنے نہیں آئے۔
دونوں بھائیوں کی گمشدگی کے بعد ابتدا میں پولیس نے ان کی گرفتاری کی تردید کی، لیکن بعد میں پنجاب پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ دونوں بھائی مریدکے سے نکل کر آزاد کشمیر پہنچ گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے ٹھکانے تک پہنچ چکے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں بھائیوں کے موبائلز کو آزاد کشمیر میں ٹریس کیا گیا تھا۔ تب پولیس حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں کو تلاش کرکے جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
اس دوران رضوی برادران کے خاندان کے افراد نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ انہیں سکیورٹی ایجنسیوں نے گرفتار کر رکھا ہے لہذا انہیں بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ اکتوبر 2025 میں دائر کردہ اس درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سعد اور انس رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اغوا کیا ہے۔
یوں ابتدا ہی سے اس معاملے میں دو بالکل متضاد دعوے موجود رہے: ایک جانب ریاست کا مؤقف یہ رہا کہ دونوں بھائی مفرور ہیں، جبکہ دوسری طرف ان کے گھر والوں کا الزام تھا کہ وہ ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ لیکن یہ معاملہ تب مزید پیچیدہ ہوگیا جب جنوری 2026 میں پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر کہا کہ سعد اور انس رضوی کسی ریاستی ادارے کی تحویل میں نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں کہیں روپوش ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق دونوں کے خلاف شیخوپورہ اور لاہور میں درجنوں مقدمات درج ہیں اور انہیں ملک بھر میں تلاش کیا جارہا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر پہنچنے کے بعد سے دونوں کسی موبائل فون یا دوسرے الیکٹرانک ڈیوائس کا استعمال نہیں کر رہے، لہذا اب ان کی لوکیشن معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس مرحلے پر بھی ریاستی اداروں کی جانب سے ان کی گرفتاری یا حراست کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
لیکن اس کہانی میں ایک نیا موڑ مئی 2026 میں آیا جب انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سعد رضوی اور تحریک لبیک کے 23 دیگر رہنماؤں کو ایک مقدمے میں اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت مستقل وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
عدالت کے سامنے پولیس کا مؤقف تھا کہ ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں اور اعلانات کے باوجود عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ اس عدالتی کارروائی نے بظاہر ریاستی مؤقف کو تقویت دی کہ سعد رضوی کم از کم اس مرحلے تک قانونی طور پر مفرور تصور کیے جا رہے تھے۔ مگر اس کے بعد تحریک لبیک کی جانب سے مؤقف میں واضح تبدیلی سامنے آئی۔ 26 جون 2026 کو ٹی ایل پی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا کہ سعد رضوی اور انس رضوی کو بلاجواز حراست میں رکھا گیا ہے اور مطالبہ کیا کہ دونوں کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے، کھلی عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کے قانونی و آئینی حقوق بحال کیے جائیں۔ تاہم عملی طور پر دونوں بھائیوں کی بازیابی کے لیے تحریک لبیک کا ایک بھی ورکر سڑکوں پر نہیں نکلا جو کہ حیران کن بات ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سعد اور انس رضوی مفرور ہیں تو مئی میں عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیے جانے کے باوجود اب تک ان کی گرفتاری کیوں نہیں ہوسکی؟ اگر پولیس کا مؤقف درست ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں موجود ہیں تو ایک سال کے قریب عرصے میں ان کے خلاف کارروائی کیوں مکمل نہیں ہوسکی؟ اور اگر ٹی ایل پی کا دعویٰ درست ہے کہ دونوں ریاستی تحویل میں ہیں تو پھر ان کی گرفتاری کا کوئی باضابطہ ریکارڈ، عدالتی پیشی یا قانونی حیثیت عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی گئی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اب محض سیاسی بیان سے نہیں بلکہ کسی قابلِ تصدیق قانونی یا سرکاری کارروائی سے درکار ہے۔
اس خاموشی اور تضاد کو تحریک لبیک کی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ سعد رضوی اور انس رضوی کے والد مولانا خادم حسین رضوی کو ایک زمانے میں جنرل فیض حمید کے قریب سمجھا جاتا تھا اور اپوزیشن کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ تحریک لبیک دراصل فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بغل بچہ تنظیم ہے جسے منتخب حکومتوں کو دباؤ میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ سیاسی الزام تھا اور اس کی مختلف فریقوں کی جانب سے تردید یا اختلاف سامنے آتا رہا، تاہم 2017 کا فیض آباد دھرنا آج بھی ریاست اور تحریک لبیک کے تعلقات پر ہونے والی بحث کا مرکزی حوالہ ہے۔
نواز شریف حکومت کے خلاف تحریک لبیک کے 2017 کے فیض آباد دھرنے نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو مفلوج کردیا تھا۔ پولیس آپریشن ناکام ہونے اور حالات قابو سے باہر ہونے کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے میں کردار ادا کیا۔ معاہدے کے بعد وزیر قانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا اور دھرنا ختم ہوگیا۔ احتجاج کے اختتام پر مظاہرین میں رقم تقسیم کیے جانے کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جنہوں نے ریاستی اداروں اور تحریک لبیک کے تعلقات کے بارے میں اس وقت بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔ بعد کے برسوں میں یہی جماعت کبھی ریاستی کریک ڈاؤن کا نشانہ بنی اور کبھی مذاکرات کے ذریعے دوبارہ سیاسی میدان میں آئی، جس سے اس کے ریاست کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مسلسل بحث کا موضوع بنی رہی۔
