حکومت اور PTI میں سے پہلے آنکھ کون جھپکے گا؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے نتیجے میں طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان پیدا ہونے والے تناؤ کی بنیادی وجہ دونوں فریقین کے فکری اختلافات ہیں، جن کے باعث درمیانی راستہ نکلنے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ دونوں فریقین میں سے پہلے آنکھ کون جھپکتا ہے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ دونوں اطراف سے سخت بیانات اور ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے باوجود فریقین تصادم سے گریز کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت ہنگامی حالات اور گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر محتاط دکھائی دیتی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی بھی اسلام آباد پر فیصلہ کن یلغار سے قبل مذاکرات کے کسی ممکنہ راستے کے منتظر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے لانگ مارچ کو اسلام آباد لے جانے کی بجائے خیبر پختون خواہ میں ہی گول گول گھما رہے ہیں۔

 

نصرت جاوید کے مطابق تحریک انصاف کے لیے عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ملک گیر احتجاجی تحریک چلانا آسان نہیں رہا، کیونکہ سوشل میڈیا پر کارکنوں کے جوش و جذبے کے باوجود عملی طور پر وسیع عوامی شرکت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بقول لاہور اور کراچی میں سہیل آفریدی کے تجربات بھی اس صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں کہ احتجاجی سرگرمیوں کو ملک گیر تحریک میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں صرف خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے سے وفاقی حکومت پر دباؤ تو بڑھ سکتا ہے، لیکن اسے ملک گیر عوامی تحریک کا متبادل قرار دینا مشکل ہے۔

 

انہوں نے نومبر 2024 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تب بشریٰ بی بی کی شرکت نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور مظاہرین ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے، تاہم ریاستی قوت کے استعمال کے بعد احتجاج پسپائی پر ختم ہوا اور بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور دونوں جوتیاں اٹھا کر فرار ہو گئے۔ اس تجربے کے تناظر میں سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد مارچ کو فوری طور پر فیصلہ کن تصادم کی طرف نہ لے جانے کی حکمت عملی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے بعض سوشل میڈیا حامیوں کی جانب سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد ان کے لیے سخت مؤقف اختیار کرنے کا سیاسی دباؤ بڑھ گی۔

 

نصرت جاوید کے مطابق اس دباؤ نے سہیل آفریدی کے سیاسی بیانیے کو بھی متاثر کیا ہے اور ان کی توجہ ملک گیر جمہوری تحریک کے بجائے پختون جذبات کی ترجمانی پر زیادہ مرکوز دکھائی دینے لگی ہے۔ اس صورت حال سے وفاقی حکومت کو تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اور جماعت کے مرکزی سیاسی مؤقف کے درمیان فرق نمایاں کرنے کا موقع ملا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف رہے، لیکن دو دن اور 13 گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی، جس سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

 

حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکراتی عمل کی پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے نصرت جاوید نے تحریک انصاف کی قیادت کے ڈھانچے اور فیصلوں میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے کردار کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کی نامزدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت بعض اہم سیاسی معاملات میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں پر بھی انحصار کرتی ہے۔ سہیل آفریدی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کی رائے کو اہمیت دینے اور کسی معاہدے کے لیے عمران خان کی ہدایات ضروری قرار دیے جانے کے باعث حکومت کے ساتھ مذاکرات میں فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

 

انکے مطابق وفاقی حکومت نے مذاکرات کے دوران دہشت گردی اور افغان دراندازی کے خلاف اقدامات میں خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون کو بنیادی اہمیت دی، جبکہ تحریک انصاف کی توجہ عمران خان کی رہائی اور ان کے لیے جیل میں سہولتوں کے مطالبے پر مرکوز رہی۔ نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا معاملہ ڈرون حملوں، فوجی آپریشنوں اور نقل مکانی جیسے تلخ تجربات سے جڑا ہے، جبکہ تحریک انصاف نے طویل عرصے سے ان خدشات اور احساسات کی سیاسی ترجمانی کی ہے۔ یہی فرق صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید بڑھا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

نصرت جاوید کے مطابق ریاستی ادارے افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو ناگزیر سمجھتے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کی قیادت ان معاملات کے مقابلے میں اپنے سیاسی قائد کی رہائی کو زیادہ اہمیت دیتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اختلاف محض لانگ مارچ یا گورنر راج کے امکان تک محدود نہیں، بلکہ مسائل کی ترجیحات اور انہیں حل کرنے کے طریقہ کار میں بنیادی فرق اس کشیدگی کی اہم وجہ ہے۔ موجودہ صورت حال میں وفاقی حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے لیے براہ راست تصادم کے سیاسی اور انتظامی نتائج سے بچنا اہم ہے۔ حکومت سخت اقدامات کی دھمکیوں کے باوجود ان کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کر سکتی، جبکہ سہیل آفریدی کے لیے عمران خان سے وفاداری ثابت کرنے، کارکنوں کے دباؤ کا سامنا کرنے اور احتجاجی حکمت عملی کے نتائج کو مدنظر رکھنے کے تقاضے بیک وقت موجود ہیں۔  انکے بقول یہی عوامل دونوں جانب محتاط رویے اور مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

Back to top button