محسن نقوی کا دعویٰ، سہیل آفریدی خفیہ ملاقاتیں کرتے اور تصویر بنوانے سے بھی کتراتے تھے
وزیر داخلہ کے مطابق ملاقاتوں میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر بات ہوتی رہی، لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے مطالبات پر بھی پسِ پردہ پیش رفت جاری تھی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان سے چھپ کر ملاقاتیں کرتے تھے اور تصویر بنوانے سے بھی گھبراتے تھے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تاہم ان نشستوں میں صرف دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کی گئی اور کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔
وزیر داخلہ کے مطابق تقریباً چار ماہ قبل سہیل آفریدی کے ساتھ پانچ اضلاع میں پولیس کی استعداد بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔ سہیل آفریدی نے اس مقصد کے لیے فنڈز کی کمی کا ذکر کیا تو وفاقی حکومت نے اخراجات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے خود اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بہت اچھا کام ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ سے وہ خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر رہے تھے اور ذاتی طور پر بھی سہیل آفریدی کے ساتھ پسِ پردہ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کو دہشتگردی کے خلاف قومی جدوجہد میں شامل کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے اعلان سے قبل پی ٹی آئی کے بیشتر مطالبات پر پیش رفت جاری تھی۔ ملاقاتوں، علاج معالجے اور دیگر معاملات کے حل کے لیے بھی پسِ پردہ کام پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ ان کے بقول، پی ٹی آئی کے اپنے رہنما بھی لانگ مارچ کے اعلان پر حیران تھے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دھرنا مؤخر کرانے اور مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ بعدازاں صدر مملکت اور وزیراعظم کی مشاورت سے مذاکراتی کمیٹی بنائی گئی، جس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ دو روز تک مذاکرات کیے۔
محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے دوران اسد قیصر نے دہشتگردی کے خلاف تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اسد قیصر نے واضح کیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
