لاہور کراچی اوراسلام آباد میں جرائم کی شرح کیوں بڑھ گئی؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ ساتھ سندھ کے دارالحکومت کراچی اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔زیادہ تر لوگ جرائم میں اضافے کو بیروزگاری، ناخواندگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت سے جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگ اپنی ضروریات کوپورا کرنے کے لیے جرائم کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے شہری مسلسل خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اس خوف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یا تو خود سٹریٹ کرائمز کا شکار ہوتے ہیں یا کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو حال ہی میں شکار ہوا تھا۔ دن کی روشنی میں بھیڑ بھاڑ والے بازار میں جانا اتنا ہی غیر محفوظ ہے جتنا کہ رات کو ویران سڑک پر سفر کرنا۔ لہذا احساس کے تحفظ کا فقدان معاشرے کی مجموعی فلاح و بہبود کو متاثر کر رہا ہے۔

بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان نے کہاں سے کتنا مال بنایا؟

پچھلے چند سالوں میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ڈکیتی، چوری،اغوا، قتل اور گھروں پر حملے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاہور کراچی کے مقابلے میں چھوٹا شہر ہے لیکن یہاں سالانہ 200,000 جرائم رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سال 2020ء میں کراچی میں سالانہ 45,000 جرائم ہوتے تھے لیکن سال 2021ء میں یہ بڑھ کر 84,000 جرائم تک پہنچ گئے تھے۔ جبکہ 2022ء کے پہلے تین مہینوں میں صرف کراچی میں 11,000 سے زائد چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں جو کہ جرائم سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ بہت سے لوگ سٹریٹ کرائمز اور چوری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کراچی میں بھی امن عامہ کی صورتحال کوئی تسلی بخش نہیں۔ حکام کے مطابق ماہ رمضان کے دوران شہر میں کل 1600 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں۔ ایک ماہ کے دوران 1800 سے زائد موبائل فونز اور 121 فور وہیلر بھی چھین لیے گئے۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی شہر میں جرائم میں اضافے کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہراتی ہیں۔ لیکن وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر برس سندھ میں امن و عامہ کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔

اگر لاہور کی بات کی جائے تو گذشتہ چند ماہ میں لاہور میں جرائم بالخصوص سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہر کے کونے کونے میں قائم سکیورٹی کے باوجود ڈکیتی کی کارروائیوں میں کوئی کمی نظر نہیں آتی، جس سے لاہور پولیس کے آپریشنز ونگ کی ناقص کارکردگی کااندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لاہور میں جرائم کے سالانہ واقعات کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں 120,000 اور 2021 میں 225,000 کیسز رپورٹ ہوئے۔ جبکہ 2022 کے پہلے چار مہینوں میں 80,000 سے زائد کیسز پہلے ہی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ملک کیلئے تشویش کا باعث ہے جہاں تک گھناؤنے جرائم کی تعداد کا تعلق ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق، صرف مئی کے مہینے میں سٹریٹ کرائم کے تقریباً 200 واقعات رپورٹ ہوئے۔ شہر کے کرائم رپوٹرز کی اکثریت پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا ہیرا پھیری کو ‘پیشہ وارانہ بیماری’ قرار دیتے ہیں جو پولیس فورس کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج سے قبلِ ادراک جرم کا ارتکاب ہوتا ہے اور ایسی صورت حال میں کسی ابتدائی تفتیش کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ایف آئی آرکا باقاعدہ اندراج ناصرف جرائم پر قابو پانے کیلئے موثر ثابت ہوتا ہے بلکہ اس سے پولیس حکام کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔ جرائم کے اندراج سے اعلیٰ حکام کو کسی بھی علاقے میں امن وامان کی صورت حال کا اندازہ لگانے اور جرائم کی شرح کو جانچنے کے لیے اقدامات کرنے میں مدد ملتی ہے۔

لاہور اور کراچی کی طرح سخت حفاظتی انتظامات اور سرچ آپریشنز کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی سٹریٹ کرائمز اور کمسن بچیوں کے اغوا کی وارداتوں سے محفوظ نہیں ہے۔ وفاقی پولیس کی ریکارڈ بک کے مطابق 2021ء میں ضلع بھر کے 22 تھانوں میں 13 ہزار سے زائد مقدمات درج ہوئے۔ 2020ء میں رجسٹرڈ کیسز کا تناسب 8,800 تھا۔ 2021ء میں ڈکیتی، سٹریٹ کرائم، چوری، کار چوری اور موٹر سائیکل چوری کے 6,500 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2020ء میں یہ تعداد 1,087 تھی۔ 2021ء میں قتل کے 140 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2020 میں یہ تعداد 313 تھی۔

لہٰذا وقت کے ساتھ ساتھ سٹریٹ کرائم کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ، تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ حال ہی میں حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی بھی اپنائی، لیکن ہمیں ابھی تک ان حکمت عملیوں پر موثر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آیا۔ لہذا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کو ملک میں امن وامان کی بحالی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سنجیدگی سے یہ کام کرنا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button