الیکشن ایکٹ میں ترامیم اتفاق رائے سے کی گئیں

وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن ایکٹ میں تمام ترامیم اتفاق رائے سے کی گئی ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے الیکشن ایکٹ میں 57 ترامیم 2 منٹ میں منظور کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کو رات 12 بجے ختم ہوجائے گی، کوئی چیز چھپا کر نہیں ہو رہی، زیر التوا بلز کو منظور ہونا چاہئے۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن ایکٹ میں تمام ترامیم اتفاق رائے سے کی گئی ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی ترامیم نامناسب جلد بازی میں نہیں کی گئی ہے، الیکشن ایکٹ ہمارے دل کے قریب ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ2017ء کا الیکشن ایکٹ بہت محنت سے تیار کیا گیا، آئین میں وقت کے ساتھ کچھ ترامیم کرنا پڑتی ہیں، 3، 3 دن تک پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج روک دیے جاتے تھے، پریزائیڈنگ افسران نتائج روک
کاجول کے والد ان کی جلد شادی سے نالاں کیوں تھے؟
دیتے تھے، جس کی وجہ سے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھتے تھے۔
