موبائل ’’لون‘‘ ایپس صارفین کو کیسے بلیک میل کرتی ہیں؟

چھوٹے، چھوٹے قرض دے کر صارفین کو لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی موبائل ایپس نے اپنے دھندے سے کئی افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، شکایات عام ہونے پر ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کراچی نے نام نہاد قرض دہندہ نوسر باز 8 کمپنیوں کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایف آئی اے کو اس ضمن میں ایزی لون، آسان قرضہ ، ضرورت کیش، منی باکس، ادھار پیسہ ، بروقت، لون کلب اور اسمارٹ قرضہ کے خلاف شکایات موصول ہو چکی ہیں,ایف آئی اے کے مطابق نوسر باز موبائل فون و سوشل میڈیا پر قرض کی فراہمی کا اشتہار دیتے ہیں، ضرورت مند یا آزمانے کے غرض سے ایپ ڈائون لوڈ کرنا ہی عذاب بن جاتا ہے۔ ایپ ڈاون لوڈ کرتے ہی بنا قرض مانگے قرضہ ایپ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر دی جاتی ہے۔
ایف آئی اے اہلکار کے مطابق متلعقہ شہری کے منع کرنے پر بھی کہ انہیں قرض نہیں چاہئے لیکن نامعلوم افراد اضافی رقم کے ساتھ قرضے کی واپسی کا شدت سے مطالبہ کرتے ہیں۔قرضہ تین ہزار سے ایک لاکھ روپے تک دیا جاتا ہے، قرضہ ایزی پیسہ جیز کیش کی مدد سے فراہم کیا جاتا ہے، تین ہزار کی رقم پر پانچ سو اضافی رقم لی جاتی ہے، بارہ ہزار کی رقم قرض لینے پر 16 ہزار ادا کرنے ہوتے ہیں۔
عوام جہاں مالی مشکلات کا وقتی حل ان ایپ میں ڈھونڈ کر لٹ رہے ہیں وہیں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ بیشتر لون ایپس کے ذریعے قرض کا بیشتر سودی کاروبار جنوبی پنجاب اور بعض ایپس خیبرپختونخوا سے بھی چلایا جارہا ہے۔ایپ کال سینٹرز کے ملازمین کا انداز گفتگو ماہرانہ نہیں ہوتا، قرض کی ان ایپس کے کال سینٹرز متاثرہ شخص کے دوست احباب کو بھی کال کر کے فحش گالیاں اور دھمکیاں دیتا ہے۔ایف آئی کو موصول ہونے والی شکایات کے مطابق شہری ایپ کا استعمال بند کر دے تو بھی قرض دہندہ کی ایپس سے کال آتی ہیں، اضافی رقم نہ دینے اور زبردستی قرضہ دینے کی شکایت پر عریاں تصاویر وائرل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق نوسر باز ایپ ڈائون لوڈ کرنے والے شہری کی موبائل گیلری اور سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، نوسر بازوں کی جانب سے بعض متاثرین کے موبائل پر بہت زیادہ کال کر کے شکایت کی جاتی ہے۔ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کراچی نے شہریوں کی جانب سے شکایات کی روشنی میں قرض فراہم کرنے والی 8 کمپنیوں کے خلاف جہاں تحقیقات کا آغاز کیا ہے وہیں قرض کے اس آن لائن سودی دلدل میں پھنس کر خود کشی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
نوسر بازوں کے ہتھے چڑھنے اور سودی قرض کی دلدل میں بری طرح پھنسنے کے بعد راولپنڈی کے رہائشی محمود مسعود نے گزشتہ روز خودکشی کرلی تھی۔ سوشل میڈیا پر ان سے منسوب ایک آڈیو پیغام میں انہوں نے اپنی بے
ٹک ٹاکر جنت مرزا نے نجی چیٹ سوشل میڈیا پر شیئر کیوں کی؟
بسی کا اظہار کرتے ہوئے اہلیہ سے معافی طلب کی ہے۔
