ٹائی ٹینک ڈوبنے کے 111 سال بعد بھی حل نہ ہونیوالے 4 معمے

19ویں صدی کا سب سے بڑا جہاز ٹائٹینک صرف تین گھنٹوں کے اندر سمندر میں غائب ہوگیا تھا، ایسا جہاز جس سے متعلق خیال تھا کہ اس سے ٹکرانے والی کوئی بھی چیز نیست و نابود ہو جائے گی، برفانی ٹیلے سے ٹکر کا جھٹکا بھی برداشت نہیں کر سکا۔
حادثے کے وقت جہاز پر سوار زیادہ تر مسافر نیند کی آغوش میں تھے، حادثے کے وقت ٹائٹینک 41 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن سے امریکہ کے شہر نیویارک کی طرف بڑھ رہا تھا اور صرف تین گھنٹے کے اندر 14 اور 15 اپریل 1912 کی درمیانی رات ٹائٹینک بحر اوقیانوس میں ڈوب گیا تھا۔
وہ جہاز جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کبھی نہیں ڈوبے گا، نہ صرف چند گھنٹوں میں سمندر میں غرق ہو گیا بلکہ اس حادثے میں 1500 کے قریب افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ 111 سال بعد بھی اسے سب سے بڑا سمندری حادثہ سمجھا جاتا ہے۔ ستمبر 1985 میں اس جہاز کی باقیات کو بحر اوقیانوس میں جائے حادثہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔
حادثے کے بعد یہ بحری جہاز کینیڈا سے 650 کلومیٹر کے فاصلے پر 3,843 میٹر کی گہرائی میں دو حصوں میں بٹ گیا اور دونوں حصے ایک دوسرے سے 800 میٹر کے فاصلے پر تھے۔
فیڈرل یونیورسٹی آف ریو ڈی جنیرو کے شعبہ بحریہ اور اوشن انجینئرنگ کے پروفیسر اور انجینئر الیگزینڈر ڈی پنہو الہو کہتے ہیں کہ ’انجینئرنگ کے لحاظ سے یہ ڈیزائن کی بنیاد پر تیار کردہ پہلا جہاز تھا۔ کئی واٹر ٹائٹ کمپارٹمنٹس بنائے گئے تھے یعنی جہاز کا ایک کمرہ پانی سے بھر جائے تو دوسرے کمرے کو غرق نہیں کر سکتا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس جہاز کی تیاری کے دوران کچھ مشکلات پیش آئیں تھیں جیسا کہ جہاز کی اونچائی کتنی رکھی جائے تاکہ بجلی کی تاریں اور پانی کے پائپ ٹھیک سے کام کر سکیں، اس پر بہت سوچ بچار کی گئی۔
پروفیسر الہو کے مطابق ’اس پر غور کرنے کے بعد اس وقت کے انجینیئرز نے جہاز کی اونچائی کا تعین کیا یہاں تک کہ سیلاب کی صورت میں انھوں نے اندازہ لگایا کہ پانی چھت کی اونچائی تک نہیں پہنچے گا، چھت پر محفوظ کمپارٹمنٹ بھی بنائے تھے۔
لیکن تب کسی نے برف کے تودے سے زبردست ٹکراؤ کا سوچا بھی نہ ہوگا، پروفیسر الہو کا کہنا تھا کہ ’تصادم اتنا زوردار تھا کہ جہاز کی مین باڈی میں جہاز کی نصف لمبائی تک سوراخ ہو گیا تھا۔ ایسی حالت میں پانی ڈیک تک پہنچ گیا تھا۔
جہاز پانی سے بھرنے لگا تھا ایسی صورتحال میں ریسکیو ممکن نہیں ہوتا آپ پانی کو نکالنے کے لیے جہاز میں موجود تمام پمپس چالو کر سکتے ہیں، آپ سب کچھ آزما سکتے ہیں لیکن جس رفتار سے پانی اندر آ رہا ہوتا ہے اسی رفتار سے اسے واپس باہر نہیں پھینک سکتے۔
جہاز میں پانی داخل ہونے کی صورت میں بھی پانی اس سیلرز اور کمپارٹنمنٹس میں بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا لیکن برفانی تودے کے ساتھ ٹکرانے سے جہاز کو اچھا خاصا نقصان پہنچا تھا اور واٹر ٹائمٹ کمپارٹمنٹس کی بہت سی دیواریں تباہ ہو گئیں تھی۔‘
فلومینینس فیڈرل یونیورسٹی کے پروفیسر اور ٹرانسپورٹ انجینیئر اوریلو سوراس مرتا کے مطابق ’ٹائٹینک کا واٹر ٹائٹ کمپارٹمنٹ بند کرنے کا نظام بھی ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔زبردست تصادم کے بعد جہاز کی ساخت میں تبدیلی آئی دروازے بند نہیں ہو رہے تھے وہ پھنس گئے تھے۔ ٹائی ٹینک کو اس دور میں بھی خالص سٹیل سے بنایا گیا تھا لیکن اس وقت کا سٹیل ایسا نہیں تھا۔ آج کے فولاد کی طرح مضبوط نہیں تھا۔
ساؤ پالو میں میکنزی پرسبیٹیرین یونیورسٹی کے پروفیسر اور میٹالرجیکل انجینئر جان ویتاووک بتاتے ہیں کہ 1940 کی دہائی تک جہاز کا مرکزی حصہ شیٹ میٹل سے بنا تھا تاہم بعد میں دھاتوں کو پگھلا کر ان جہازوں کی مرکزی باڈی بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ویتاووک بتاتے ہیں کہ ’اس کے بعد سے ٹیکنالوجی اور مواد بہت بدل چکے ہیں۔ اب دھات پگھل کر آپس میں جڑی ہوئی ہے۔ سٹیل بنانے میں کاربن کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا ہے اور مینگنیز کا استعمال بڑھنے لگا ہے۔ آج کا سٹیل بہت مضبوط ہے۔

ٹک ٹاکر کنول آفتاب نے شوہروں کی حمایت پر معافی مانگ لی

Back to top button