اداکار منوج باجپائی ’’دیوداس‘‘ کا ہیرو کیوں بننا چاہتے تھے؟

معروف اداکار منوج باجپائی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ فلم ’’دیوداس‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے کے خواہاں تھے لیکن جب ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی نے انہیں چنی لال کے معاون کردار کیلئے آفیر دی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا، اداکار نے اپنی تمام فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور معاون اداکار کے طور پر کام کرنے سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی۔ اس کردار کے لیے بعد ازاں جیکی شیروف کا انتخاب کیا گیا۔تاہم منوج باجپائی نے ای ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ہمیشہ سے ہی دیوداس میں کام کرنا چاہتا تھا لیکن کسی نے مجھے کاسٹ کرنے کے بارے میں نہیں سوچا، مجھے یہ کردار ادا کر کے خوشی ہوگی۔یہ کہانی ایک ایسے اداکار کی ہے جس نے بالی ووڈ میں اپنی اداکاری کے بل بوتے پر وہ مقام حاص کیا ہے جو چند اداکاروں کو ہی حاصل ہو سکا ہے۔ وہ دو نیشل فلم ایوارڈز اور تین فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔انڈین ریاست بہار کے ایک گاؤں میں 1969 میں آج ہی کے روز پیدا ہونے والے منوج باجپائی بچپن سے ہی فلموں میں اداکاری کرنے کا خواب دیکھا کرتے تھے، انہوں نے اپنے اس تجربے کے بارے میں اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نیشنل سکول آف ڈرامہ میں داخلے کی درخواست بارہا رد ہونے پر ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے اور خودکشی کرنے کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔منوج باجپائی نے 1994 میں ہدایت کار شیکھر کپور کی فلم ’دی بینڈٹ کوئین‘ اور بے مثل ہدایت کار گووند نہلانی کی فلم ’دروکال‘ میں مختصر کردار ادا کر کے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ یہ 1998میں ریلیز ہونے والی ہدایت کار رام گوپال ورما کی فلم ’ستیہ‘ تھی جس نے بہت سے دوسرے تخلیق کاروں کی طرح منوج باجپائی کے لیے بھی ترقی کے دروازے کھول دیے۔ اداکار کو اس فلم میں کام کرنے پر بہترین معاون اداکار کا نیشنل ایوارڈ اور بہترین اداکار کے فلم فیئر کرٹکس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس فلم کے مکالمے انوراگ کیشپ نے لکھے تھے جن کا نام مکالمہ نگار کے طور پر اس فلم کے لیے منوج باجپائی نے ہی تجویز کیا تھا۔اس فلم کے بعد منوج باجپائی نے ’کون‘ اور ’شول‘ میں کام کیا۔ ان دونوں فلموں کی کہانی ان کے دوست انوراگ کیشپ نے لکھی تھی۔ ان کا یہ سفر رُکا نہیں، انہوں نے زبیدہ، عکس، روڈ اور راج نیتی سمیت متعدد فلموں میں اہم کردار ادا کیے اور اپنی ایک منفرد پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔منوج باجپائی 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم کلٹ فلم ’گینگز آف واسع پور‘ میں سردار خان کے کردار میں نظر آئے۔رواں سال منوج باجپائی کو بالی ووڈ سے منسلک ہوئے تین دہائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ بالی ووڈ کا یہ بے مثل اداکار جواں جذبوں کے ساتھ آج بھی ’ایکشن‘ کہے جانے پر اپنے کردار میں ڈھل جاتا ہے اور فلم بینوں کو اپنی ایکٹنگ سے محظوظ کرتا ہے۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ منوج باجپائی اسی ایکٹنگ ایجنسی کے ذریعے بالی ووڈ میں آئے تھے جس نے شاہ رُخ خان کا انتخاب کیا تھا، تاہم اداکار نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی شاہ رُخ خان سے کبھی دوستی نہیں رہی۔منوج باجپائی نے اپنی پہلی ناکام شادی کے کئی برس بعد اداکارہ شبانہ رضا سے شادی کی جس سے ان کی ایک بیٹی ہے۔اداکار کو 2019 میں حکومتی اعزاز پدما شری سے نوازا گیا جو ان کی خدمات کا ایک ادنی سا اعتراف ہے۔
