آنجہانی عرفان خان کے بیٹے بابل کی خوشی اُداسی میں کیوں بدل گئی؟

بھارتی فلم انڈسٹری کے آںجہانی اداکار عرفان خان کے بیٹے بابل خان جو پہلے اپنے والد کے بلند قہقے پر خوشی سے کھل اٹھتے تھے لیکن آج کل وہ قہقہ ان کو اُداس کر جاتا ہے۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق بابل خان نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وہ مجھے اور ایان خان کو دیکھتے ہوئے بھول جایا کرتے تھے جیسے دنیا میں کچھ اور ہے ہی نہیں۔
عرفان خان کے انتقال کو تین سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، ان کے بیٹے بابل خان بھی شوبز کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں، بابل نے اپنے والد عرفان خان کی ایسی تصویر شیئر کی جس میں وہ آٹھویں ایشین فلم ایوارڈ کی تقریب میں انعام وصول کرنے کے بعد ایوارڈ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ بابل خان نے لکھا کہ ’عرفان خان ایک بہترین اداکار ہونے سے بڑھ کر بہترین والد تھے، مزید لکھا کہ ’وہ آنکھیں جو آپ کو دیکھتی ہیں ان کو وہ سب کچھ محسوس ہوتا ہے جو آپ نے روحانی طور پر بیرونی خیالات کے بجائے اندرونی ذرائع سے دریافت کیا تھا۔‘
بابل خان کی پہلی فلم ’کلا‘ پچھلے سال پہلے ریلیز ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان پر اپنے والد کی فنی میراث کا دباؤ تھا، آج کل بابل خان ویب سیریز ’دی ریلوے مین‘ کے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، عرفان خان 29 اپریل 2020 کو بڑی آنت کے کینسر کے باعث 54 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
1967 میں راجستھان کی مسلمان فیملی میں پیدا ہونے والے عرفان خان نے 1987 میں قسمت آزمانے کے لیے ممبئی پہنچے تھے لیکن شروع کے کئی سال چھوٹے موٹے رول ادا کرنا پڑے، بالی وڈ میں ان کی انٹری بطور ولن ہوئی تھی تاہم اپنی اثر انگیز شخصیت کی وجہ سے جلد ہی وہ مرکزی کرداروں کے لیے بھی چنے جانے لگے، انہوں نے لائف آف پائی اور جراسک ورلڈ جیسی ہالی وڈ کی فلموں میں بھی کام کیا۔
عرفان خان کو انڈین فلم انڈسٹری کا ایسا اداکار مانا جاتا ہے جنہوں نے جو بھی کردار ادا کیا وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا، دیکھنے والوں کو یہی محسوس ہوا کہ وہ صرف ان کے لیے بنا تھا، وہ اپنے کردار کو حقیقت کا روپ
کیا الیکشن میں تحریک انصاف مائنس ہونے والی ہے؟
دینے کے لیے اپنی مثال آپ تھے۔
