بھارتی شاعرجاوید اختر نے پاکستان پر الزامات کیوں لگائے؟

لاہور میں 17 سے 19 فروری تک ہونے والے تین روزہ فیض فیسٹیول میں جہاں ان کی ادبی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا وہیں بھارتی فلم ساز جاوید اختر کے بیان کو پاکستانیوں پر سرجیکل سٹرائیک سے جوڑ کر بھارت میں خوب چرچا کی گئی۔بھارتی سوشل میڈیا پر پاکستان میں تیسری سرجیکل سٹرائیک ٹاپ ٹرینڈ میں رہا جبکہ پاکستانی صارفین کی بڑی تعداد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہمسایوں کو آئینہ دکھایا کہ ممبئی حملے کے ملزمان ڈھونڈنے والوں کو گجرات کا قصاب کیوں نظر نہیں آ رہا؟
ساتویں فیض فیسٹیول میں بھارتی شاعر، نغمہ نگار اور فلم ساز جاوید اختر کی جانب سے پاکستان پر الزام لگانے کے دوران پنڈال میں موجود تماشائیوں کی جانب سے انہیں داد دیئے جانے پر سوشل میڈیا صارفین نے فیسٹیول میں شریک ہونے والے افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔جاوید اختر نے اپنی گفتگو کے دوران شکوہ کیا کہ پاکستان میں آج تک لتا منگیشکر کی یاد میں یا انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت میں نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن جیسے گلوکاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پروگرامات منعقد کیے گئے۔
بھارتی نغمہ نگار کے اس دعوے پر تقریب کے شرکا نے زور دار تالیاں بجائیں اور ان کو سراہا، جاوید اختر نے اسی گفتگو میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممبئی کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے وہاں پر حملے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ممبئی پر حملہ کرنے والے افراد مصر یا ناروے سے نہیں آئے تھے۔پاکستان کا نام لیے بغیر فیسٹیول میں موجود تماشائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے لوگ اب بھی آپ کے ملک میں گھوم رہے ہیں اور اس بات کو ایک ہندوستانی کا شکوہ سمجھ کر برداشت کریں۔جاوید اختر کی پاکستان پر الزام لگانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوٹ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں بہادر قرار دیا اور اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ بھارتی نغمہ نگار نے پاکستانیوں کو گھر میں گھس کر مارا۔
بعض صارفین نے سوال کیا کہ کیا جاوید اختر کو صرف اپنے ہی ملک کی بدنامی کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا؟ بعض افراد نے فیسٹیول انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں بتایا کہ پاکستان میں جاوید اختر سے اچھے نغمہ نگار اور شاعر موجود ہیں۔پروگرام میں ایک خاتون نے جاوید اختر سے سوال کیا کہ آپ کئی بار پاکستان آ چکے ہیں اور آپ دیکھ چکے ہیں کہ پاکستان ایک بہت دوستانہ، مثبت سوچ رکھنے اور محبت والا ملک ہے لیکن ہندوستان میں ہمارا تصور اتنا اچھا نہیں ہے۔اس پر جاوید اختر نے جواب دیا کہ آپ جو کہہ رہی ہیں اس میں بہت سچائی ہے اور یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ لاہور اور امرتسر کے درمیان 30 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اس کے باوجود ان دونوں شہروں اور ملکوں کے لوگوں میں ایک دوسرے کے بارے میں جو لاعلمی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔
بالی وڈ اداکارہ کنگنگا رناوت نے جاوید اختر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ’جب میں جاوید صاحب کی شاعری سُنتی ہوں تو لگتا تھا کہ ماں ساوتری جی کی ان پر کرپا ہے، لیکن دیکھو کچھ تو سچائی ہوتی ہے انسان میں تبھی تو خدائی ہوتی ہے ان کے ساتھ میں۔۔۔۔ جے ہند جاوید صاحب (آپ نے) گھر میں گھس کے مارا۔پاکستانی اداکار شان شاہد نے ٹویٹ کیا کہ ’ان کو گجرات میں مسلمانوں کے قاتل کا تو پتا ہے لیکن یہ خاموش ہیں اور اب یہ صاحب پاکستان میں 26/11 کے ملزموں کو ڈھونڈ رہے ہیں، ان کو ویزا کس نے دیا؟
صحافی آئمہ کھوسہ لکھتی ہیں ’صرف ایک چھوٹا سا انسان ہی کسی دوسرے ملک میں جا کر اپنے ان میزبانوں کی توہین کرے گا جنھوں نے اس کی مہمان نوازی اور احترام میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھی۔ثمن جعفری کا کہنا ہے کہ جاوید اختر اور ان کی اہلیہ ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف نفرت انگیز، متنازع اور متعصب رہے ہیں جو کسی بھی طرح فنون لطیفہ کی کوئی خدمت نہیں ہے۔بی بی سی کی شمائلہ جعفری سے بات کرتے ہوئے منیزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ ’جاوید اور شبانہ سے ہمارا پرانا رشتہ ہے، ہندوستان میں سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے، میں نے نہیں سوچا تھا کہ جاوید آ سکیں گے۔جاوید نے حیرانی سے پوچھا کہ تم مجھے پاکستان آنے کے لیے نہیں کہو گی؟ منیزہ نے اگلے ہی دن ویزے کے لیے کام شروع کر دیا اور پاکستان کی وزارت داخلہ نے بھی اس کی مدد کی اور اس طرح پانچ سال بعد وہ اس فیسٹول کا حصہ بن سکے۔
جب فیسٹیول کی منتظم منیزہ ہاشمی سے ممبئی حملوں پر جاوید اختر کے تبصرے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تقریب میں اتنی مصروف تھیں کہ جاوید اختر کا سیشن نہیں سُن سکیں۔انھوں نے کہا کہ جاوید اختر لوگوں سے رابطہ کرنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے دوسرے سیشن میں سوال جواب کا سیشن طلب کیا تھا، وہ جس طرح چاہتے تھے ویسے بولے، لوگوں نے انھیں بڑے احترام سے سُنا، یہ بہت خوبصورت تھا، اگر کوئی سیاست کرنا چاہتا ہے تو یہ اس پر منحصر ہے، ہم اپنے دل کے دروازے کھلے رکھتے ہیں، یہی فیض صاحب نے ہمیں سکھایا ہے۔
