اداکارہ منشا پاشا نے شادیوں میں کمی کی وجہ بتا دی؟

معروف اداکارہ منشا پاشا نے شادیوں میں کمی کی بڑی وجہ علیحدگی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام طور پر لوگ شادی سے اس لیے گھبرا جاتے ہیں کہ اگر بعد میں علیحدگی ہی ہونی ہے تو شادی کی ہی کیوں جائے؟منشا پاشا نے حال ہی میں فریحہ الطاف کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پہلی بار اپنی پہلی شادی کی ناکامی اور طلاق پر بات کرنے سمیت دوسری شادی پر بھی بات کی، ساتھ ہی اداکارہ نے پہلی بار اپنے خاندان اور خود سے متعلق بھی کچھ معلومات فراہم کیں اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح انہوں نے اداکاری کا آغاز کیا۔منشا پاشا نے بتایا کہ ان کی پیدائش حیدرآباد میں ہوئی، جب کہ ان کے والد نوابشاہ اور والدہ کا تعلق دادو ضلع سے ہے، اداکارہ کے مطابق وہ تین بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور ان کا کوئی بھائی نہیں تھا، اس لیے بچپن سے ہی والدین نے انہیں ہرکام خود کرنے کا کہا اور انہوں نے گھر کے وہ تمام کام بھی کیے جو خالصتا لڑکے کیا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اے لیول کے لیے وہ صوبائی دارالحکومت کراچی منتقل ہوئیں، جہاں سے گریجویشن بھی کیا، جس کے بعد انہوں نے ایک پروڈکشن ہاؤس میں انٹرنشپ شروع کی۔ان تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے، ان کے والد اور والدہ دونوں سرکاری ڈاکٹر تھے، اس لیے انہوں نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی پارٹ ٹائم ملازمت کرنا شروع کر دی تھی۔اداکارہ نے بتایا کہ پروڈکشن ہاؤس میں لائن پروڈیوسر کی ملازمت کے دوران انہیں عدنان صدیقی نے دیکھا، جنہوں نے ان کے پروڈکشن والوں یعنی فیصل قریشی والوں کو مشورہ دیا کہ ان سے اداکاری کروائیں، انہیں یہاں کیوں رکھا ہوا ہے؟عدنان صدیقی کے مشورے کے بعد انہوں نے مشہور ڈرامے ’ہمسفر‘ میں مختصر کردار کیا، جس کے بعد انہیں پہلی بار ’زندگی گلزار ہے‘ میں اچھا کردار دیا گیا اور یوں ہی ان کی اداکاری کی شروعات ہوئی۔شوہر جبران ناصر سے تعلقات کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ شادی سے قبل ہی ان کے درمیان کئی سال سے دوستی تھی، دونوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کافی عرصے سے دوست تھے، جس کے بعد وہ مشترکہ دوستوں کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے دوران پہلی بار ملے، جہاں سے ان کے درمیان گہرے تعلقات شروع ہوئے جو بعد میں شادی میں تبدیل ہوگئے۔ان کے مطابق چوں کہ شادی سے پہلے انسان آزاد ہوتا ہے لیکن شادی کے بعد اس کی تمام زندگی تبدیل ہوجاتی ہے اور وہ دوسرے شخص کو ذہن میں رکھ کر زندگی گزار رہا ہوتا ہے، شادی کے بعد دوسرے شخص اور افراد کے مطابق زندگی گزارنے کی عادت اپنانے کے بعد اگر اچانک سے وہ رشتہ ختم ہو جائے اور طلاق ہو جائے تو ایک دم سے زندگی تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر عادتیں بدلنے میں بھی وقت لگتا ہے۔منشا پاشا نے طلاق کے فیصلے کو زندگی کا مشکل ترین فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چوں کہ شادی کے بعد صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں کا مستقبل بھی اسے رشتے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، اس لیے طلاق بہت مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔ہمارے سماج میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کو دیکھ کر بھی بعض افراد شادی نہیں کرتے، کیوںکہ ان کی سوچ بن گئی ہے کہ شادی کے بعد طلاق ہی ہونی ہے تو شادی ہی کیوں کی جائے؟ ایسی سوچ رکھنے والے افراد غلط ہیں، ایسی سوچ رکھ کر زندگی کو آگے بڑھنے سے
سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں
روکنا بے وقوفی ہے۔
