گلوکارہ آئمہ بیگ 6 ماہ تک ویل چیئر پر کیوں رہیں؟

اپنی مسحور کن آواز سے مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والی گلوکارہ آئمہ بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ فلم ’’12وں کھلاڑی‘‘ کی آفر کے دوران وہ شدید بیمار ہوگئی تھیں یہاں تک کہ انھوں نے چھ ماہ ویل چیئر پر گزارے کیونکہ ہڈیوں میں شدید سوجن ہو گئی تھی۔

گلوکارہ نے حال ہی میں یوٹیوبر شاہویر جعفری کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے شوبز سمیت دیگر معاملات اور اپنی زندگی میں آنے والے واقعات سے متعلق انکشافات کیے۔

فلم ’’12وں کھلاڑی‘‘ میں کام نہ کرنے کے سوال کے جواب میں آئمہ بیگ نے انکشاف کیا کہ وہ ان دنوں آرتھرائٹس نامی سنگین بیماری کا شکار تھیں، آرتھرائٹس نامی بیماری کو جوڑوں کا درد بھی کہا جاتا ہے، جو عُمر کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے، اس مرض میں جوڑوں میں مسلسل درد کے ساتھ سوزش بھی رہتی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق آرتھرائٹس کی کئی اقسام ہیں جن میں جسم کے دیگر اعضاء، مثال کے طور پر آنکھیں، دل، یا جلد بھی متاثر ہو سکتے ہیں، اس بیماری کی عام علامات میں جوڑوں میں درد اور سوجن شامل ہیں۔

گلوکارہ نے بیماری کے حوالے سے بتایا کہ وہ چار سال قبل 6 ماہ تک ویل چیئر پر تھیں اور اسی دوران میں پنجاب کا دورہ بھی کر رہی تھیں، اس وقت میرے ایک پاؤں کا سائز 37 تھا اور دوسرے پاؤں کا سائز 38 ہوگیا تھا، گھٹنے، جوڑوں سمیت تمام ہڈیوں میں بہت زیادہ سوجن ہوگئی تھی۔

آئمہ بیگ نے مزید انکشاف کیا کہ ’میں اپنے قریب رکھا گلاس بھی نہیں اٹھا سکتی تھی، میرے بال جھڑنا شروع ہوگئے تھے، وزن بڑھنا شروع ہوگیا تھا کیونکہ ہر صبح میں 12 گولیاں کھاتی تھی، نیویارک کے ایک ڈاکٹر نے مجھے کچھ انجیکشن لگائے جس کے بعد میں ویل چیئر سے اٹھنے کے قابل ہوئی، ان دنوں میری حالت بہت تشویش ناک تھی۔

آئمہ کا کہنا تھا کہ جب مجھے فلم کے لیے کاسٹ کیا جا رہا تھا تو میں نے اس وقت ماہرہ خان سے شئیر کیا تھا، انہوں نے میری حالت کو سمجھا، اس کے لیے میں ان کی شکر گزار ہوں، فلم بارہواں کھلاڑی کے علاوہ بھی کئی بار اداکاری کی پیش کش ہوچکی ہے لیکن انہوں نے کسی آفر کو قبول نہیں کیا۔

آئمہ بیگ نے انکشاف کیا کہ جب وہ 16 سال کی تھی تو پڑھائی کے ساتھ انہوں نے پیسے کمانے کے لیے امریکا کے ایک کال سینٹر میں بھی کام کیا تھا جہاں وہ کام کرتی تھیں اس ادارے کا نام ڈیجیٹل گلوبل سروس تھا، وہ کال کے ذریعے امریکا میں لوگوں کو کیبل کنکشن فروخت کرتی تھیں، آئمہ بیگ نے بتایا کہ میں نے اس ادارے میں اپنے باس کو جعلی نام بتایا تھا، اس وقت میں بہت چھوٹی اور بے وقوف تھی۔

آئمہ کا کہنا تھا کہ باس نے میرا نام پوچھا تو میں نے بے دہانی میں اپنا نام ’لیسا جیکسن‘ بتا دیا، اور اسی نام کی وجہ سے کال سینٹر پر کال کے دوران مجھے 72 سالہ شخص نے ملاقات کی پیشکش کی۔اس شخص کی سب سے متاثر کن بات مجھے یہ لگی کہ اس نے ناشتے میں پائن ایپل پین کیک آفر کیا تھا۔

آئمہ نے انکشاف کیا کہ اس شخص کا خیال تھا کہ وہ اوہائیو میں رہتی ہیں اور وہ اسے اپنی پسندیدہ جگہ پر لے جانے کے لیے بضد تھا، کال سینٹر میں میری تنخواہ صرف 3 ہزار تھی، ان دنوں میں اپنی دوستوں کے ساتھ شیشہ بھی پیتی تھی، لیکن اب نہیں پی سکتی کیونکہ سر میں شدید درد ہو جاتا ہے۔

اس وقت ملک میں عدالتی مارشل لا لگا ہوا ہے

Back to top button