محمد عامر کے بابراعظم سے اختلافات سامنے آ گئے؟

پاکستانی فاسٹ بائولر محمد عامر نے کہا ہے کہ قومی کپتان بابراعظم سے کوئی اختلاف نہیں ہے، میرے خیال میں بطور ٹی ٹوئنٹی پلیئر ان کی کارکردگی غیرتسلی بخش ہے، لیکن اس کو مخالفت یا دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، جو لوگ ایسا سوچتے ہیں ان کو اللہ ہی ہدایت دے سکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ’’ہنسنا منع ہے‘‘ میں بابراعظم کے ساتھ اختلافات سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے محمد عامر کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم ہم سے جونیئرہیں، ہمیشہ ہماری عزت کی ہے، ان کے ساتھ میں پانچ سال سے کرکٹ کھیل رہا ہوں، کبھی بھی ان کے ساتھ ’توتو، میں میں‘ نہیں ہوئی۔ ہمارے درمیان بہت اچھی ہم آہنگی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ بابراعظم کی کرکٹ پر بات کی ہے اس کی شخصیت پر کبھی کوئی بات نہیں کی کہ بابر کوئی اچھا انسان نہیں ہے، بطور انسان آپ کبھی کسی کے بارے میں درست رائے نہیں دے سکتے، بطور کھلاڑی کسی کو شاہین اچھا لگتا ہوگا، کسی کو میں اور کسی کو بابراعظم، اب جن کو میرا کھیل پسند نہیں تو کیا میں کہہ دوں کہ وہ میرے دشمن ہیں۔
فاسٹ بائولر نے مزید کہا کہ بابراعظم کے حوالے سے میں نے ہمیشہ یہی بات کہی کہ بابراعظم ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کا اس دور کا سب سے اچھا کھلاڑی ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس کی ٹی 20 گیم کے حوالے سے میری رائے مختلف ہے، کیوں کہ بطور باؤلر میں انہیں ٹی ٹوئنٹی کا مشکل بلے باز نہیں سمجھتا، میں اب بھی دعوے سے کہتا ہوں کہ بابراعظم اس دور میں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے بہترین کھلاڑی ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں محمد عامرنے ماضی کی یادیں ناظرین سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 2009 کی بات ہے ہم سری لنکا کے دورے پر تھے تو ہوٹل سے ایک جانب کامران بھائی اپنی اہلیہ کے ساتھ باہر نکلے توادھر سے سعید اجمل بھائی بھابھی کیساتھ باہر آئے تو اسی دوران میں بھی اپنے روم سے باہرآگیا۔
کامران اکمل بھائی نے سعید بھائی کو دیکھتے ہی کہا، او ’شبو‘ تو تیار ہو گئی ہے تو اس پر سعید بھائی کی اہلیہ نے فوراً مڑ کر سعید بھائی کی طرف دیکھا اور کہہ ’ یہ تمہیں ’شبو‘ کہہ کر بلاتے ہیں، اس پرسعید اجمل نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ہاں کہتے تو یہی ہیں! لیکن اس کو بھی کبھی دیکھا ہے جب یہ وکٹ کے پیچھے ہیلمٹ پہن کر کیپنگ کر رہا ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے ’چوہے‘ کو جیل ہوئی، ہوئی ہے۔
محمد عامر نے انکشاف کیا کہ پاکستانی ٹیم میں سعید اجمل بھائی اور شعیب ملک بھائی دو ایسے کھلاڑی ہیں جن سے آپ ’جگت بازی‘ میں کسی صورت نہیں جیت سکتے، بطور سپورٹ پرسن آپ کا دماغی طور پر پُرسکون ہونا بہت ضروری ہے، اگر آپ کو ایک’پریشان کن‘ ماحول ملے، گراؤنڈ سے باہر آپ کو مسائل ہوں توآپ گراؤنڈ میں جا کرپھرکچھ بھی نہیں کر سکتے۔
محمد عامر نے کہا کہ کسی بڑے ایونٹ کے میچ سے قبل کھلاڑی بہت بے تاب ہوتا ہے رات کو نیند نہیں آتی۔ میں بطور باؤلر2009 کے ورلڈ کپ کے فائنل اور 2017 کی چمپئن ٹرافی کے فائنل والے روز ایسی کیفیت سے گزرا، چیمپئن ٹرافی میں رمضان بھی تھا تو میں نے اسی لباس میں نوافل ادا کیے جو پہن کر مجھے صبح فائنل کھیلنا تھا، گراؤنڈ سے باہردباؤ ہوتا ہے لیکن جب میدان میں اترتے ہیں تو سارا دباؤ کم ہو جاتا ہے پھرآپ کی توجہ کھیل پرمرکوز ہوجاتی ہے۔
فاسٹ بائولر نے کہا کہ پاکستان کے ٹاپ 5 بائولرز میں بطور سینئر میں خود کو پہلے نمبر پر سمجھتا ہوں، دوسرے پر نسیم شاہ ہے جو مجھے مکمل باؤلر لگتا ہے کیوںکہ وہ نئی گیند سے ان سونگ اور آؤٹ سوئنگ دونوں طرح کی باؤلنگ کرنے میں ماہر ہے، نئے کھلاڑیوں میں، میں نسیم شاہ کو سب سے اچھا باؤلرسمجھتا ہوں
محمد عامر نے کہا کہ ماضی میں میرے ساتھ جو ہوا وہ الگ بات ہے لیکن 2015 میں جب میں کرکٹ میں واپس آیا تو اس کے لیے میں تیار تھا کہ مجھے لوگوں کی جانب سے بہت کچھ سننا پڑے گا لیکن میں نے اس کے بعد اپنی پوری توجہ کھیل پر مرکوز رکھی، جب آپ کے سامنے مقصد بڑا ہو تو پھر ایسی چیزیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، وہ عرصہ واقعی میرے لیے بہت مشکل
پاکستان میں جھوٹی خبروں کا دھندا کیوں پروان چڑھنے لگا؟
تھا۔
