چیف جسٹس غیر ملکی سازش کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی خود کریں

صدر مملکت عارف علوی نے مبینہ دھمکی آمیر امریکی خط کی تحقیقات پر کمیشن قائم کرنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے خط میں کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں۔

صدر مملکت نے حکومت گرانے کی غیرملکی سازش کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی غرض سے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے خط کے متن کے مطابق غیر ملکی سازش کی تحقیقات اور سماعت کے لیے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ترجیحاً چیف جسٹس خود کریں ہمیں ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے بچانے، صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے،ملک میں ایک سنگین سیاسی بحران منڈلا رہا ہے، حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کے عوام میں بڑی سیاسی تفریق پیدا ہو رہی ہے، تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک کو مزید نقصان اور بگاڑ سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں، افسوس کہ تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جا رہے ہیں جس کے سبب غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔

صدر علوی نے لکھا کہ مواقع ضائع ہو رہے ہیں، کنفیوژن پھیل رہی ہے، معیشت بھی بحران میں ہے، سپریم کورٹ نے ماضی میں قومی سلامتی، سالمیت، خودمختاری اور مفاد عامہ کے معاملات میں عدالتی کمیشن تشکیل دیے، چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کی۔
صدرنے کہا اسی طرح میموگیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا، لاپتا افراد کے لیے ایک فعال جوڈیشل کمیشن موجود ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج کررہے ہیں اور اب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کمیشن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔

دعا زہرا کو آئندہ سماعت پر عدالت پیش کرنے کا حکم

خط کےمتن کے مطابق قوم سپریم کورٹ کا احترام کرتی ہے، اپنی توقعات پر پورا اترنے کی امید کرتی ہے، کمیشن کو معاملے کی تحقیقات قانون کی تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ انصاف کی اصل روح کے مطابق کرنی چاہیے، یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی، پاکستانی عوام قومی اہمیت کے معاملے پر وضاحت کی مستحق ہے۔
صدر نے خط میں کہا کہ عالمی تاریخ میں سازشوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، میری رائے ہے کہ ریکارڈ شدہ حالات اور واقعات پر مبنی شواہد نتائج کی طرف لے جاسکتے ہیں، درخواست ہے کہ جوڈیشل کمیشن مبینہ سازش کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرے۔

Back to top button