شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14گھنٹے تک پہنچ گیا

پاکستان بھر میں لوگ انتہائی گرم موسم اور بجلی کی طویل بندش کے دہرے عذاب سے دوچار ہیں، بجلی کی کئی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے ہفتے کے روز شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز ہونے جانے کے بعد لوڈشیڈنگ کا سہارا لیا۔
رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں 3 سے 6 گھنٹے جبکہ ملک کے دیہی علاقوں میں 12 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔طے شدہ بندش کے علاوہ اوور لوڈڈ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی وجہ سے براؤن آؤٹ (ٹرپنگ، اتار چڑھاؤ، کم وولٹیج وغیرہ) نے بھی لوڈ مینجمنٹ پر مجبور کیا۔
اسی طرح مینٹیننس کے بہانے بھی شٹ ڈاؤن جاری رہا ایسے میں کہ جب لوگوں کو گرم اور مرطوب موسم کا سامنا تھا اس سے ان کی زندگی اجیرن ہوگئی، شدید گرمی کے دوران ایئرکنڈیشنرز پر انحصار بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی جو کہ ملک کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ طلب ہے۔
ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ جمعہ کو سب سے زیادہ طلب 30 ہزار میگاواٹ کو چھو گئی، زیادہ نقصان والے بجلی کے فیڈرز (بجلی چوری والے علاقوں) کی سروس کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں ہمارا شارٹ فال زیادہ سے زیادہ ڈھائی ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کو گزشتہ ایک ہفتے بالخصوص جمعرات کے بعد سے جس مجموعی شارٹ فال کا سامنا ہے، وہ 5 ہزار میگاواٹ اور 6 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے، تاہم ہفتہ کو شارٹ فال 6 ہزار 300 میگاواٹ تک پہنچ گیا۔
درحقیقت ایک پالیسی معاملے کے طور پر زیادہ نقصان والے فیڈرز (کیٹیگری 1 سے 6) پر جو لوڈشیڈنگ دیکھی جا رہی ہے اسے لوڈشیڈنگ نہیں سمجھا جاتا، درحقیقت اسے بجلی چوروں کے لیے سزا سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس پالیسی کے تحت بجلی کے شارٹ فال کا ایک بڑا حصہ ایسے علاقوں کو متاثر
ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لےلی گئی
کرتا ہے۔
