لندن کے میئر صادق خان ہاؤس آف لارڈز کے رکن مقرر

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے پہلے مسلمان میئر صادق خان کو ہاؤس آف لارڈز کا رکن مقرر کردیا گیا ہے،جس سے وہ پارلیمان کے ایوانِ بالا کا حصہ بن گئے ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سبکدوش ہونے والے وزیرِاعظم کیئرسٹارمر نے 26 نئے ارکان کی تقرری کی منظوری دی،جن میں صادق خان بھی شامل ہیں۔یہ تقرریاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب سٹارمر آئندہ ہفتے اپنی ذمہ داریاں اینڈی برنہم کے حوالے کرنےوالے ہیں۔
خیال رہے کہ ہاؤس آف لارڈز برطانوی پارلیمان کا ایوانِ بالا ہے،جہاں ارکان قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہیں اور ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) سے منظور ہونےوالے قوانین کا جائزہ لیتے ہیں۔ہاؤس آف لارڈ کے اس وقت 774 ارکان ہیں اور یہ دنیا کے سب سے بڑے قانون ساز ایوانوں میں شمار ہوتا ہے۔
صادق خان اپنے موجودہ عہدے،یعنی میئر لندن، پر بھی برقرار رہیں گے۔ان کی ہاؤس آف لارڈز میں شمولیت کےبعد امکان ظاہر کیا جارہا ہےکہ نئی حکومت انہیں کوئی وفاقی وزارت بھی سونپ سکتی ہے،تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیاگیا۔
نئے مقرر ہونے والے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھتےہیں،جس کا مقصد قانون سازی کے عمل میں متنوع تجربہ شامل کرنا ہے۔
اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب
یاد رہے کہ صادق خان پاکستانی نژاد برطانوی ہیں۔ ان کے والدین 1970ء کی دہائی میں پاکستان سے ہجرت کرکے لندن منتقل ہوئےتھے اور ان کی پیدائش 1970ء میں لندن میں ہی ہوئی۔ان کے والد، امان اللہ خان، لندن میں بس ڈرائیور تھے اور ان کی والدہ، سحرون خان،سلائی کڑھائی کاکام کرتی تھیں۔
صادق خان پہلی بار 2016ء میں لندن کے میئر بنے اور تب سے اب تک مسلسل تین بار یہ انتخاب جیت کر ایک منفرد برطانوی-پاکستانی لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔
